گناہ و ناجائز

کونڈوں کا کھانا کھانے کا حکم

فتوی نمبر :
91321
| تاریخ :
2026-01-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کونڈوں کا کھانا کھانے کا حکم

کونڈوں کا کھانا کھانے کے بارے میں تفصیل سے جواب دیں کہ اہل تشیع کے گھر کونڈے کھانا خاص دنوں میں اور رجب کے مہینے میں کیسا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کونڈوں کے کھانے میں اگر غیر اللہ کی نذر نہ ہو تو ان کا کھانا اگرچہ حرام نہیں، مگر رسم کا کھانا ہونے کی وجہ سے ان سے بہر حال احتراز کرنا چاہیے، جبکہ اہل تشیع سے اس قدر بے تکلفانہ تعلقات قائم کرنا، جس سے ان کے گھر آمد ورفت اور کھانے پینے کی نوبت پیش آجائے ،مناسب نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: واعلم أن النذر الذي يقع للأموات من أكثر العوام وما يؤخذ من الدراهم والشمع والزيت ونحوها إلى ضرائح الأولياء الكرام تقربا إليهم فهو بالإجماع باطل وحرام ما لم يقصدوا صرفها لفقراء الأنام وقد ابتلي الناس بذلك ٲھـ ،( مطلب في صوم الست من شوال،ج: 2،ص: 439،مط: دارالفکر بیروت۔)
وفي رد المحتار: (قوله باطل وحرام) لوجوه: منها أنه نذر لمخلوق والنذر للمخلوق لا يجوز لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق اھ، (ج: 2،ص: 439۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91321کی تصدیق کریں
0     51
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات