گناہ و ناجائز

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور بچوں کے کھیل کود کے سامان کی آمدن کا حکم

فتوی نمبر :
91252
| تاریخ :
2026-01-21
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور بچوں کے کھیل کود کے سامان کی آمدن کا حکم

میری کمپیوٹر کی دوکان ہے اور میں اسلامی ویڈیوز اور آڈیوز، اسی طرح پشتو زبان میں ترجمہ شدہ افغانستان میں امریکی فوج کی ویڈیوز ،اسی طرح کمپیوٹر کورس کی ویڈیوز یوٹیوب سے ڈاؤنلوڈ کرکے لوگوں کے موبائل فون میں کاپی کرتا ہوں اور اس پر کمائی کرتا ہوں تو یہ کمائی کیسی ہے ؟ اسی طرح ایمیل اکاؤنٹس اور آئی فون کی آئی کلاؤڈ کا اکاؤنٹس بنانا اور واٹساپ بنانا یا اپڈیٹ کرنےپر کمائی کرتا ہوں اسی طرح ٹکٹاک یا فیسبوک کا اکاؤنٹس بنانے کی کمائی کیسی ہے اسی طرح وای فای انٹرنیٹ کے ساتھ لوگوں کے موبائل فون کو کنکٹ کرکے مثلاً ایک gb دس روپیہ پر بیچنا، اسی طرح بچوں کے لیے سکول کی ایموجیز تصاویر والی کاپیاں اور قلمیں فروخت کرنے کی کمائی کیسی ہے ؟ اسی طرح سکول کی جاندار تصاویر والی کتابوں کو فروخت کرنا، اسی طرح بچوں کے کھیل کود کے سامان جیسے کرکٹ گیند اور بیٹ اور ہاتھ کی گیمز جیسے Rubik cube کھیل کود کا سامان فروخت کرنے کی کمائی کیسی ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکورہ تمام کاروبار اور خدمات کا اصل حکم جواز ہے، لہذا اسلامی بیانات، جائز تعلیمی مواد، کمپیوٹر کورسز، ای میل، آئی کلاؤڈ، واٹس ایپ وغیرہ کے اکاؤنٹس بنانا، وائی فائی انٹرنیٹ فروخت کرنا، بچوں کی نصابی کاپیاں، قلم، تعلیمی کتابیں اور کھیل کود کا سامان فروخت کرنا، اس سب سے حاصل ہونے والی آمدنی شرعاً جائز ہے۔ اسی طرح فیس بک اور ٹک ٹاک اکاؤنٹس بنانے کی اجرت بھی فی نفسہ جائز ہے۔ البتہ ایسے مواد کی ڈاؤن لوڈنگ، کاپی یا تشہیر جس میں فحاشی، گناہ، باطل نظریات کی ترویج، حقوق نشر (copy right ) کی خلاف ورزی یا معصیت پر تعاون پایاجاتا ہو، اس کی آمدنی جائز نہیں ، لہذا سائل کو چاہئے کہ صرف جائز اور مباح خدمات تک اپنے کاروبار کو محدود رکھے اور ہر اس کام سے اجتناب کرے جو تعاون علی المعصیۃ پر مشتمل ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما جاء فی التنزیل العزیز: ﵟوَتَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡبِرِّ وَٱلتَّقۡوَىٰۖ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ شَدِيدُ ٱلۡعِقَابِ ﵞ(المائدۃ: ایۃ:2)
و فی الدر: «(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية
و فی الرد تحتہ: «قوله وجاز) أي عنده لا عندهما بيع عصير عنب أي معصوره المستخرج منه فلا يكره بيع العنب والكرم منه بلا خلاف، كما في المحيط لكن في بيع الخزانة أن بيع العنب على الخلاف قهستاني (قوله ممن يعلم) فيه إشارة إلى أنه لو لم يعلم لم يكره بلا خلاف قهستاني»(کتاب الحضر والاباحۃ،فصل فی البیع، ج:6،ص،391،ط:سعید)
و فی درر الحکام فی شرح مجلة الاحکام: «يغتفر في التوابع ما لا يغتفر في غيرها](المادة 54) :يغتفر في التوابع ما لا يغتفر في غيرها.هذه القاعدة مأخوذة من كتاب الأشباه وقاعدة (يغتفر لشيء ضمنا ما لا يغتفر قصدا) قريبة من هذه القاعدة، وتترجم هذه القاعدة من التركية قد يجوز تبعا ما لا يجوز ابتداء.»(المادۃ:55،ج:1، ص:56، ط:دارالجیل بیروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91252کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات