محترم مفتی صاحب حضرت
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
عرض یہ ہے کہ
اگر ایک اذان سن کر اس کا جواب دے دیا جائے، اور اس اذان کے بعد جیسے ظہر کے وقت اذان ہوئی، اس کا جواب دیا، دعا پڑھ لی، پھر ظہر ہی کی اذان كي کسی دوسری مسجد سے آواز آئے، تو کیا اس اذان کو سن کر اس کا جواب دینا ضروری ہے؟
یا معمولاتِ زندگی پر قائم رہ سکتے ہیں؟
حضرت رہنمائی فرما دیں۔
والسلام
واضح رہے کہ جب متعدد اذانیں ہوتی ہوں تو پہلی اذان کا جواب دینا اذان کے احترام کے لیے کافی ہے، اس کے بعد والی اذانوں کے لیے کام وغیرہ معمولات کو موقوف کرنے کی ضرورت نہیں۔
كما في الفتاوى الهندية: إذا كان في المسجد أكثر من مؤذن واحد أذن واحدا بعد واحد فالحرمة للأول كذا في الكفاية .(ج:1،ص:57،مط: ماجدية).
وفي خلاصةالفتاوىٰ: قال شمس الائمة الحلواني رحمه الله الإجابة بالقدم لا باللسان حتى لو اجاب باللسان ولم يمشي إلى المسجد لا يكون مجيبا.. وقوله عليه الصلاة والسلام: من قال كما قال المؤذن فله من الاجر كذا إن قال نال الثواب الموعود وإن لم يقل لم ينل أما إن يأثم او يكره له ذلك فلا..الخ(ج:1،ص:50،مكتبةرشيدية).