محترم مفتی صاحب ! ہماری جامع مسجد کے خطیب صاحب نے جمعہ کی پہلی اذان کومؤخر کیا ، وہ کہتا ہے کہ پہلے جب اذان ہو ، تو لوگ مسجد نہیں آتے ہیں، اس لیے وہ گناہ گار ہوتے ہیں، وہ جمعہ کی دونوں اذانوں کے درمیان صرف چار رکعت کا وقفہ رکھتا ہے، کیا ایسا پہلے بھی کبھی ہوا ہے ؟ تفصیل کے ساتھ جواب طلب ہے ۔ شکریہ!
متعلقہ مسجد کے نمازی پہلی اذان کے بعد مسجد آنے میں کوتاہی کرتے ہوں، تو وہ اپنی اس کوتاہی کی وجہ سے شرعاً گناہ گار ہیں، اس لیے امام موصوف نے پہلی اذان کو اگر وقت سے محض اس لیے مؤخر کر وا دیا ہو کہ ،سب لوگ مسجد آجائیں اور گناہ گار ہونے سے بچ جائے ، اور ان کے آنے کے بعد پہلی اذان اور پھر کچھ وقفے کے بعد دوسری اذان کا اہتمام ہوتا ہو ، تو اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں، بلکہ بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
المعارف للبنورىؒ: وبالجملة فهذ الاذان كان قبل التاذين بين يدى الخطيب وكان في أول وقت الظهر متصلاً بالزوال اھ (۴/ ۳۹۶)
وفي فتح الباري لابن حجر: ويستفاد منه ترك المصلحة لأمن الوقوع في المفسدة (إلی قوله) وأن الإمام يسوس رعيته بما فيه إصلاحهم ولو كان مفضولا ما لم يكن محرما اھ (1/ 225)
وفی صحيح البخاري: باب من ترك بعض الاختيار، مخافة أن يقصر فهم بعض الناس عنه، فيقعوا في أشد منه اھ (1/ 37)واللہ اعلم