محترم جناب! ہماری مسجد میں داڑھی منڈھا شخص داڑھی والوں کے ہوتے ہوئے اذان دیتا ہے، جب کبھی ہم اسے داڑھی والوں اور حافظوں کی موجودگی میں اذان دینے سے منع کرتے ہیں تو وہ ہم سے اذان کے بارے میں اسلامی احکامات کا سوال کرتا ہے، برائے مہربانی ہماری راہ نمائی فرمائیں اور ہمیں فتوی دیں۔
داڑھی والے با شرع افراد کی موجودگی میں داڑھی منڈھے شخص کا اذان دینا مکروہ ہے، اس لیے با شرع افراد کو اذان دینے کا موقع دے اور خود بھی اس کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے اپنی شکل و صورت شریعت کے مطابق بنانے کی کوشش کرے ، جبکہ دیگر لوگوں کو چاہیے کہ اسے سختی سے منع کرنے کے بجائے حکمت و بصیرت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کریں ۔
کما فی حاشية ابن عابدين: (قوله: وأما الأخذ منها إلخ) (إلی قوله) عن أبي هريرة عنه - صلى الله عليه وسلم - «جزوا الشوارب واعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اهـ (2/ 418)
وكما في الدر المختار: (ويكره أذان جنب وإقامته وإقامة محدث لا أذانه) على المذهب (و) أذان (امرأة) وخنثى (وفاسق) ولو عالما، لكنه أولى بإمامة وأذان من جاهل تقي اھ (1/ 392)
وفي بدائع الصنائع: (وأما) الذي يرجع إلى صفات المؤذن (إلی قوله) (ومنها) - أن يكون تقيا لقول النبي - صلى الله عليه وسلم -: «الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن» ، والأمانة لا يؤديها إلا التقي. (ومنها) : أن يكون عالما بالسنة لقوله - صلى الله عليه وسلم -:: «يؤمكم أقرؤكم، ويؤذن لكم خياركم» ، وخيار الناس العلماء اھ (1/ 150)