کیا اذان کا جواب باآواز دینا ضروری ہے یا صرف دل ہی میں اذان کا جواب دیا جا سکتا ہے؟ اگر کوئی باآواز اذان کا جواب دے رہا ہو تو اس کا یہ عمل کیسا ہے؟ جزاک اللہ خیرا!
اذان کا جواب زبان سے دینا ضروری ہے اور اس کی مقدار اتنی ہو کہ زبان سے تلفظ ادا ہو جائیں، اس کے لیے اتنی بلند آواز بھی نہ ہو کہ بلاوجہ شور ہو جائے۔
ففی سنن ابن ماجه: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا أذن المؤذن، فقولوا مثل قوله» اھ(1/ 238)
وفی شرح سنن ابن ماجه: قوله فقولوا مثل قوله قال الشيخ وإجابۃ المؤذن واجبة ويكره التكلم عند الأذان ولو تعدد المؤذنون في مسجد واحد فالحرمة للأول (ص: 53) واللہ أعلم بالصواب!