محترم جناب مفتی صاحب!
السلام علیکم! مجھے معلوم کرنا ہے کہ کیا یہ بات صحیح ہے کہ اگر کوئی شخص اذان کے وقت جان بوجھ کر کوئی گناہِ کبیرہ یا حرام کام کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے؟ یا ایسے گناہ بھی توبہ کرنے سے معاف ہو جاتے ہیں؟ جبکہ گناہ کرنے والے کو بعد میں اپنی غلطی کا احساس بھی ہو جائے۔ مہربانی فرما کر جلد ازجلد جواب ارسال کر دیں۔
اگر استخفاف مقصود نہ ہو تو محض اذان کے وقت گناہ کرنے سے آدمی کافر نہیں ہو جاتا اور توبہ کرنے سے ایسے گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں، تاہم آئندہ کے لیے ایسے امور سے مکمل طور پر احتراز لازم ہے۔
ففی شرح الفقه الأکبر: التی ذکرت فی الفتاویٰ أنه إذا اعتقد الحرام حلالاً فإن كانت حرمته لعينه وقد ثبت دليل قطعي یكفر، وإلا فلا. اھ (ص: ۱۵۲)
وفی إكفار الملحدين في ضروريات الدين: والأصل أن من اعتقد الحرام حلالاً فإن كان حراماً لغيره، كمال الغير لا يكفر، وإن كان لعينه فإن كان دليله قطعياً كفر، وإلا فلا. اھ (ص: 50)
وفی مشكاة المصابيح: وعن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن العبد إذا اعترف ثم تاب تاب الله عليه» اھ (2/ 721)