آج کل کے حالات کے مطابق گھر میں جماعت کرنی ہو، تو کیا اذان دینا لازمی ہے یاقریبی مسجد کی اذان ہی کافی ہے؟ جواب سے جلد نوازا جائے جزاک اللہ!
گھر پر جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے وقت اذان دینا کوئی ضروری نہیں ،بلکہ اس کیلئے محلہ کی اذان کافی ہے۔
کما فی الدرالمختار: (وکرہ تر کھما) (الی قولہ) (بخلاف مصل) ولو بجماعۃ (وفی بیتہ بمصر) او قریۃ لھا مسجد، فلا یکرہ تر کھما اذ اذان الحی یکفیہ الخ۔
وفی ردالمختار:تحت (قولہ : ولو بجماعۃ) وعن ابی حنیفۃ: لو اکتفو باذان الناس أجزأہم وقد اساء وا ففرق بین الواحد والجماعۃ فی ہذ ہ الروایۃ بحر۔ (قو لہ : فی بیتۃ) ای فیما یتعلق بالبلد من الدار والکرم وغیرہما قہستانی ۔(الی قولہ )(قولہ: اذ اذا ن الحی یکفیہ) لأن اذان المحلۃ واقامتھا کأذانہ وإقامتہ،لان الموذن نائب اھل المصر کلھم کما یشیر الیہ ابن مسعود حین صلی بعلقمۃ والأسود بغیر اذان ولا إقامۃ،حیث قال:اذان الحی یکفینا ،وممن رواہ سبط ابن الجوزی فتح : ای فیکون قد صلی بہما حکمًا۔ (۱/۳۹۴، ۳۹۵)
وفی الفتاوی الہندیہ: فی فتاوی قاضی خان فلا یکرہ تر کہما لمن یصلی فی المصر اذا وجد فی المحلۃ ولا فرق بین الوا حد والجماعۃ ہکذا فی التبیین الخ(۱/۵۴)۔
وفی الجوہرۃ النیرۃ : (قولہ: واول وقت الظہر اذا زالت الشمس) (الی قولہ) قولہ : وآخر وقتہا عند ابی حنیفۃ اذا صار ظل کل شیء مثلیہ سوی فی ء الزوال ( قولہ: وقال ابو یو سف ومحمد اذا صار ظل کل شیء مثلہ) وہی روایہ عن ابی حنیفۃ والاحتیاط ان لا یو خر الظہر الی المثل وان لا یصلی العصر حتی یبلغ المثلین لیکون مؤدیا لھما فی وقتہما بالاجماع کذا قال شیخ الاسلام۔ (۱/۱۶۲)واللہ اعلم باالصواب