کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام درج ذیل مسائل نماز کے بارے میں کہ:
۱۔ جب ہم ظہر اور مغرب کی نماز امام کے پیچھے پڑھے ہو، ہمیں صرف امام کی قرأت کو سننا چاہیے یا ہمیں بھی سارے رکعتوں میں سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے یا صرف تیسری اور چوتھی رکعات میں؟
۲۔ سنتِ مؤکدہ میں ہمیں سورہ فاتحہ اور کوئی بھی سورۃ پڑھنی چاہیے تیسری اور چوتھی رکعات میں۔
۳۔ اگر کسی کو پیشاب کے قطرے کا مسئلہ ہو مثال کے طور پر استنجاء اور وضو کے بعد مسجد جاتے وقت یا نماز کے دوران پیشاب کے قطرے آتے ہو تو اُسے اس حالت میں دوبارہ وضو کرنا ہو گا؟ یہ مسئلہ مستقل ہے اور لاعلاج ہے۔
۱۔ احادیث صحیحہ کی روشنی میں جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے مقتدی کے لیے حکم یہ ہے کہ امام کے پیچھے نہ سورۃ فاتحہ پڑھے اور نہ ہی کوئی اور سورۃ پڑھے خواہ امام آہستہ قرأت کر رہا ہو یابلند آواز سے۔
۲۔ سنن مؤکدہ ہوں یا غیر مؤکدہ ان کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ کوئی اور سورۃ ملانا واجب ہے۔
۳۔ اگر کسی شخص کو پیشاب کے قطر ے آتے ہو اور اس کو اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وقت کی فرض و واجب نماز طہارت کے ساتھ پڑھ سکے تو یہ معذور سمجھا جائیگا اور معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت تازہ وضو کر کے نماز ادا کیا کر ے اور اس دوران پیشاب کے قطروں کی وجہ سے دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ شرعاً معذور نہیں ہو تو جب پیشاب کے قطرےخارج ہو جائیں تو اس کا وضو ٹوٹ جائیگا، دوباہ نیا وضو کرنا ضروری ہوگا، اس کے بغیر نماز نہ ہوگی۔
كما في الدر المختار: (فإن قرأ كره تحريما) وتصح في الأصح. وفي درر البحار عن مبسوط خواهر زاده أنها تفسد ويكون فاسقا، وهو مروي عن عدة من الصحابة فالمنع أحوط (بل يستمع) إذا جهر (وينصت) إذا أسر «لقول أبي هريرة - رضي الله عنه - كنا نقرأ خلف الإمام فنزل - {وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا} [الأعراف: 204]-» اھ (1/ 544)
كما في حاشية ابن عابدين: (قوله ومنها القراءة) أي قراءة آية من القرآن، وهي فرض عملي في جميع ركعات النفل والوتر وفي ركعتين من الفرض كما سيأتي متنا في باب الوتر والنوافل. وأما تعيين القراءة في الأوليين من الفرض فهو واجب، وقيل سنة لا فرض كما سنحققه في الواجبات، وأما قراءة الفاتحة والسورة أو ثلاث آيات فهي واجبة أيضا كما سيأتي اھ (1/ 446)
كما في الفتاوى الهندية: المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق. اھ (1/ 41)