ہمارے دفتر میں ہم روزانہ باجماعت نماز ادا کرتے ہیں، مگر جماعت سے پہلے کوئی اذان نہیں ہوتی،جماعت سے پہلے اذان کا کیا حکم ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔
اگر قریبی محلہ کی مسجد میں اذان ہو جاتی ہو تو دفتر میں دوبارہ اذان کی ضرورت نہیں، محلے کی مسجد کی اذان کافی ہے، ورنہ جماعت سے قبل اذان دینا مسنون ہے، اس لیے اذان واقامت کے بعد جماعت کا اہتمام چاہیے۔
ففی الفتاوى الهندية: والأفضل أن يصلي بالأذان والإقامة كذا في التمرتاشي (إلی قوله) وإن كان في كرم أو ضيعة يكتفى بأذان القرية أو البلدة إن كان قريبا وإلا فلا وحد القريب أن يبلغ الأذان إليه منها. كذا في مختار الفتاوى وإن أذنوا كان أولى. كذا في الخلاصة اھ (1/ 54)