ہماری مسجد کے امام مجھ سے بولےکہ تمہارےقریب جوآدمی نماز پڑھ رہا تھا وہ دیوبندی ہے، کیونکہ جمعہ کی تقریرکے دوران میں نے محمدﷺکے نام پر چومنے کے بہت فضائل بیان کیے ہیں، مگر اس نے نہیں چوما اور نہ چومنےکی بناء پر وہ دیوبندی ہے، اور علمائےِ متکلمین کے نزدیک یہ کفر ہے، اس کی وضاحت فرمادیں۔
سوال دوم : کیا یہ دار الافتاء اہل سنت کا ہے یا نہیں؟
(1) اذان یا اقامت کے وقت "محمد رسول الله " کہنے پر انگوٹھوں کو چومنا کسی معتبر روایت سے ثابت نہیں، اس کی فضیلت میں جو مختلف قسم کی روایات نقل کی جاتی ہیں، ان میں بعض تو بالکل من گھڑت اور بعض انتہائی ضعیف ہیں جن سے استدلال کرنا درست نہیں، لہذا تعظیمِ اسمِ مبارک سمجھ کر یا ثواب کی نیت سے مذکور عمل کرنا بدعت ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
(۲) جی ہاں! دارالافتاء ہذا کے جملہ اراکین کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے۔
ففى الشامية: تحت ( قوله : ويدعو الخ) وفي كتاب الفردوس «من قبل ظفري إبهامه عند سماع أشهد أن محمدا رسول الله في الأذان أنا قائده ومدخله في صفوف الجنة» وتمامه في حواشي البحر للرملي عن المقاصد الحسنة للسخاوي، وذكر ذلك الجراحي وأطال، ثم قال: ولم يصح في المرفوع من كل هذا شيء.(1/398)۔