میری امی اور خالہ کا مشترکہ گھر ہے جو دونوں کے نام آدھا آدھا ہے،ہم اوپر کے فلور پہ ہیں اور خالہ نیچے کے،مالی ضروریات،خراب چھت اور امی کی صحت ،خالہ کی بدسلوکیوں کے باعث گھر بیچنے کا تقاضہ کیا تو خالہ منع کررہی ہیں اور جواز ماں بیٹی کے الگ اکیلے گھر میں رہنا بنا رہی ہیں ، کیونکہ میرے ابو اور بھائی نہیں ہیں ،خالہ نے گھر بیچنے سرپرست کا نام بتانے کی شرط رکھی تو امی نے میرے ماموں کا نام بتایا جو الگ رہتے ہیں اور دونوں بہنوں سے بڑے ہیں ، لیکن خالہ اور ماموں کا تنازعہ چل رہا ہے ،جس کے باعث خالہ قسم قسم کی باتیں بنارہی ہیں کہ ہم عاجز ہوکر گھر نہ بیچیں،حال ہی میں بدسلوکی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ اپنے منہ سے کہہ چکی ہیں کہ میں آپ کو یہ گھر بیچ کر نہ تو پیسے لینے دوں گی اور نہ ہی آزادی سے رہنے دوں گی اور جواز بارہاں سرپرست نہ ہونے اور اکیلی عورتوں کا بنارہی ہیں کہ شریعت اس بات کی اجازت نہیں دیتی ،جب ہمارے پاس کوئی مرد نہیں اس میں ہمارا کیا قصور، ابھی بھی ہم اوپر اکیلے رہتے ہیں اور اپنا ہر کام خود ہی کرتے ہیں،انتہا یہ کہ امی نے گھٹنوں کے درد کے باعث انہیں اوپر شفٹ ہونے کو کہا تو انہوں نے اس سے بھی انکار کردیا،ساتھ ہی ہماری چھت کی خرابی ہے جو ہر طرف سے ٹوٹ چکی ہے،اس کی مرمت میں بھی خالہ مالی تعاون کرنے کے لیے تیار نہیں جب کہ گھر دونوں کے نام 50/50 ہے ، نہ کہ فلور کے حساب سے،جس کے بعد ہمارا اس گھر میں رہنا دشوار ہوگیا ہے، امی اپنا 50 فیصد بیچنا چاہتی ہیں تو وہ فائل ہمارے حوالہ کرنے کیلئے تیار نہیں ،ان کا کہنا ہے کہ ہمارا اکیلے رہنا شرعا" ٹھیک نہیں ، جب کہ خالہ میری امی سے 4سال چھوٹی ہیں اور ان کے شوہر ہمارے محرم نہیں ، نہ ہی بیٹے میرے محرم ہیں ،سوال یہ ہے کہ کیا شریعت میری امی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنا آدھا حصہ بیچ کر اپنی ضروریات پوری کریں اور مرضی و آزادی سے زندگی گزاریں؟کیا خالہ کی کار کردگی امانت میں خیانت نہیں ہے؟ وہ میری امی کو ان کے حق سے محروم کررہی ہیں ،کیا شریعت اکیلی عورتوں کو معاشرے میں آزاد زندگی گزارنے کا حق نہیں دیتی جن کے پاس ابو ،بھائی یا شوہر نہیں ہوتے؟اور یہ بھی کہہ رہی ہیں کہ مالی ضروریات کے باعث گھر بیچنا بےوقوفی ہے اور ہم اللہ کے قانون کی خلاف ورزی کررہے ہیں،کیا شریعت خود کو تکلیف میں رکھ کے گھر بنانے کو فوقیت دیتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ مکان واقعی سائلہ کی والدہ اور خالہ کی مشترکہ ملکیت ہے اور دونوں اس میں نصف نصف کی مالک ہیں، تو شرعاً ہر ایک کو اپنے حصے میں تصرف کا حق حاصل ہے، لہٰذا سائلہ کی والدہ اپنی ضرورت، علاج، رہائش یا دیگر مصالح کے پیشِ نظر اپنا حصہ فروخت کرنا چاہیں تو انہیں شرعاً اس کا اختیار حاصل ہے، اور محض اس وجہ سے کہ گھر میں کوئی مرد موجود نہیں، انہیں اپنے حق سے روکنا شرعاً درست نہیں،جس سے احترازلازم ہے، البتہ چونکہ مکان مشترک ہے، اس لیے سائلہ کی خالہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق سائلہ کی والدہ کا حصہ خریدنا چاہیں تو پہلے انہیں یہ موقع دیا جائے، اگر وہ خریدنے پر آمادہ نہ ہوں، یا بلاوجہ رکاوٹ ڈالیں، تو پھر دونوں فریق مکان فروخت کرکے اپنی اپنی ملکیت کے بقدر رقم تقسیم کرلیں، نیز مشترکہ مکان کی ضروری مرمت، خصوصاً خراب اور خطرناک چھت کی درستگی، دونوں شریکوں کی ذمہ داری ہے، لہٰذا ایک شریک کا مکمل انکار کرنا اور دوسرے کو تکلیف میں ڈالنا شرعاً و اخلاقاً درست نہیں۔
کما فی الدر المختار: فإن كان الحائط يحتمل القسمة ويبني كل واحد في نصيبه السترة لم يجبر وإلا أجبر وكذا كل ما لا يقسم كحمام الخ،
وفی الشامیۃ: (قوله: فإن كان الحائط يحتمل القسمة) أي يحتمل أساسه القسمة، بأن كان عريضا، وفي المسألة تفصيل؛ لأنه إما أن يكون عليه حمولة أو لا، ففي الثاني إن طلب أحدهما القسمة وأبى الآخر فقبل لا يجبر مطلقا، وقيل: يجبر لو عرصته عريضة، به يفتى وإن طلب أحدهما البناء لا القسمة، فلو عريضة لا يجبر الآبي، ولو غير عريضة، قيل لا يجبر أيضا، وقيل يجبر وهو الأشبه اھ (کتاب الشرکۃ، فصل فی الشرکۃ الفاسدۃ، ج:4، ص:334، ط:سعید)۔
وفیھا ایضاً: ( وسببها اتصال ملك الشفيع بالمشترى ) بشركة أو جوار اھ (کتاب الشفعۃ، ج:6، ص:217، م:سعید)
وفیھا ایضاً: (قولہ و زاد الوانی) ۔۔۔ قلت: ويؤيده أن قوله: إلا في صورة الخلط والاختلاط استثناء من صحة البيع بلا إذن الشريك، وحاصله توقف الصحة على إذن الشريك، وهذا لا يتأتى في الشفعة فإن بيع الحصة من الدار صحيح وإن كان للشريك حق التملك بالشفعة، فإنه إذا ادعى الشفعة يتملكها ملكا جديدا، وإن سكت يبقى ملك المشتري على حاله سواء أذن أو لا اھ (کتاب الشرکۃ، ج:4، ص:304، ط:سعید)۔
وفی شرح الاشباہ والنظائر: المشترك إذا انهدم فأبى أحدهما العمارة، فإن احتمل القسمة لا جبر وقسم وإلا بنى ثم أجره ليرجع اھ
قوله: فإن احتمل القسمة لا جبر وقسم إلخ.أي يطلب أحدهما إلا إن امتنع، أطلق المصنف في عدم الجبر فيما لا تحتمل القسمة فشمل ما إذا انهدم كله، وصار صحراء أو بقي منه شيء وصرح في الخلاصة بأنه إذا بقي منه شيء يجبر، وأما إذا لم يبق منه شيء، وصار صحراء لا يجبر، وعبارته: طاحونة أو حمام مشترك انهدم، وأبى الشريك العمارة، يجبر هذا إذا بقي منه شيء أما إذا انهدم الكل فصار صحراء لا يجبر، وإن كان الشريك معسرا يقال له أنفق حتى يكون لك دينا على الشريك انتهى (کتاب القسمۃ، ج:3، ص:197، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی شرح المجلۃ: یصح بیع الحصۃ المعلومۃ الشایعۃ بدون اذن الشریک، فی جامع الفصولین دار بینھما باع احدھما نصفھا مشاعاً انصرف البیع الی نصیبہ اھ ( ج:1، ص:108، المادۃ:215، م:اسلامیۃ)۔