گناہ و ناجائز

عملیات کے دوران نامحرم کو چھونے کا حکم

فتوی نمبر :
91213
| تاریخ :
2026-01-20
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

عملیات کے دوران نامحرم کو چھونے کا حکم

ہمارے ہاں ایک مولوی صاحب ہے عملیات کا کام کرتا ہے کسی نے اسکے بارے میں کہا کہ اولاد کے لئے دم وغیرہ کرتا ہے اور اس دم کے دوران عورت کے ران پر ہاتھ رکھتا ہے کیا یہ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

دم کی غرض سے اجنبی عورت کی ران یا جسم کے کسی حصے کو چھونا شرعاً ناجائز اور واجبُ الاحتراز ہے۔ لہٰذا مذکور عامل اگر واقعۃً ایسا کرتا ہو تو وہ خود بھی اور اس سے دم کرانے والی عورتیں بھی گناہگار ہو رہی ہیں، ان سب پر لازم ہے کہ آئندہ اس عمل سے احتراز کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدرالمختار:(وما ‌حل ‌نظره) مما مر من ذكر أو أنثى (حل لمسه) إذا أمن الشهوة على نفسه وعليها «لأنه عليه الصلاة والسلام كان يقبل رأس فاطمة» (الى قوله) (إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ ولذا تثبت به حرمة المصاهرة(‌‌فصل في النظر والمس،ج:٦،ص:٣٦٧،مط:سعيد)
و في حاشية ابن عابدين:(قوله إلا من أجنبية) أي ما بين السرة والركبة اهـ (قوله فلا يحل مس وجهها) أي وإن جاز النظر إليه على ما يأتي(‌‌فصل في النظر والمس،ج:٦،ص:٣٦٧،مط:سعيد)
وفي الهنديه:وأما النظر إلى الأجنبيات فنقول(الى قوله) ولا يحل له ‌أن ‌يمس ‌وجهها، ولا كفها، وإن كان يأمن الشهوة وهذا إذا كانت شابة تشتهى، فإن كانت لا تشتهى لا بأس بمصافحتها ومس يدها، كذا في الذخيرة.( الباب الثامن فيما يحل للرجل النظر إليه وما لا يحل له،ج:٥،ص:٣٢٩،مط:ماجديه)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بھائی محمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91213کی تصدیق کریں
0     108
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات