بخدمتِ مفتی صاحب / دارالافتاء
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ گزارش یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توفیق، آپ حضرات کی قربانیوں اور دعاؤں سے میں سن 2004ء سے تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگاتا آ رہا ہوں۔ سن 2011ء میں میرے والد صاحب کا انتقال ہو گیا، اس وقت گھر میں میری والدہ اور بہنیں تھیں، اور گھر کا واحد مرد میں ہی تھا۔ اس کے باوجود اللہ کی توفیق سے میں ہر سال سالانہ چلہ لگاتا رہا۔
کچھ عرصے بعد میری بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور گھر میں صرف میری والدہ اہلیہ اور میری دو بیٹیاں رہ گئیں، تب بھی اللہ کے فضل سے وقت لگتا رہا۔ پھر سن 2024ء میں میری والدہ کا بھی انتقال ہو گیا، اب گھر میں صرف میری اہلیہ اور دو بیٹیاں ہیں۔
میری ایک بیٹی کی عمر اس وقت 12 سال ہے اور دوسری کی عمر 11 سال ہے۔ سن 2024ء سے اب تک (جنوری 2026ء تک) میں چلہ پر نہیں جا سکا، اس کی وجہ یہ ہے کہ گھر میں میرے سوا کوئی اور مرد موجود نہیں، نہ کوئی بھائی یا قریبی مرد رشتہ دار ہے جو گھر کی نگرانی کر سکے۔
اب میرا شرعی سوال یہ ہے کہ:
کیا ایسی صورتِ حال میں میرے لیے یہ جائز اور درست ہے کہ میں اپنی اہلیہ اور کم عمر بیٹیوں کو گھر پر چھوڑ کر اکیلا تبلیغی چلہ پر چلا جاؤں؟ یا شریعت کی رو سے اس وقت میرے لیے گھر پر رہ کر اپنی اہلیہ اور بیٹیوں کی ذمہ داری نبھانا زیادہ ضروری ہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرما دیں کہ اس معاملے میں میرے لیے کیا حکم ہے۔
جزاکم اللہ خیراً
والسلام
واضح ہو کہ شریعت کی جانب سے مرد پر اپنے اہل و عیال بیوی بچوں کا خیال رکھنا، ان کی دیکھ بھال اور اچھی پرورش کرنا لازم ہے، جس میں کوتاہی کرنا یا بیوی بچوں کو مشقت کی حالت میں چھوڑ کر جانا درست نہیں ،جبکہ تبلیغ میں چلہ یا چار ماہ میں جانا اگر چہ ایک مستحسن عمل ہے ، تاہم اگر گھر میں کوئی اور محرم ان بچوں کی دیکھ بال کرنے والا نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کو چاہیے کہ اپنی بیوی بچیوں کے ساتھ گھر میں رہ کر ان کی ذمہ داری کو نبھائے اور ان کا خیال رکھے اور اس کے ساتھ ساتھ مقامی اعمال میں جڑنے کی پابندی کرتا رہے ، امید ہے اس خیر کی نیت پربھی اللہ تبارک وتعالی اجر و ثواب عطا فر مائیں گے ۔
کما فی القرآن المجید: وَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ (سورۃ آل عمران،رقم الآیۃ:١٠٤)
وفي احكام القران للجصاص: قال الله تعالى ولتكن منكم أمة يدعون إلى الخير ويأمرون بالمعروف وينهون عن المنكر قال أبو بكر قد حوت هذه الآية معنيين أحدهما وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر والآخر أنه فرض على الكفاية ليس بفرض على كل أحد في نفسه إذا قام به غيره لقوله تعالى ولتكن منكم أمة وحقيقته تقتضي البعض دون البعض فدل على أنه فرض على الكفاية إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين ومن الناس من يقول هو فرض على كل أحد في نفسه ويجعل مخرج الكلام مخرج الخصوص في قوله ولتكن منكم أمة مجازا كقوله تعالى ليغفر لكم من ذنوبكم ومعناه ذنوبكم والذي يدل على صحة هذا القول أنه إذا قام به بعضهم سقط عن الباقين كالجهاد وغسل الموتى وتكفينهم والصلاة عليهم ودفنهم ولولا أنه فرض على الكفاية لما سقط عن الآخرين بقيام بعضهم به(سورة آل عمران،ج: ٢،ص: ٣١٥، مط: دار الكتب العلمية )
وفي الصحيح المسلم: عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ألا كلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته فالأمير الذي على الناس راع وهو مسؤول عن رعيته والرجل راع على أهل بيته وهو مسؤول عنهم والمرأة راعية على بيت بعلها وولده وهي مسئولة عنهم والعبد راع على مال سيده وهو مسؤول عنه ألا فكلكم راع وكلكم مسؤول عن رعيته،اھ (كتاب الامارة، رقم الحديث: ١٨٢٩)