گناہ و ناجائز

کتنے دن بعد اور کہاں کہاں تک زیر ناف بال کاٹنے چاہئے؟

فتوی نمبر :
91192
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کتنے دن بعد اور کہاں کہاں تک زیر ناف بال کاٹنے چاہئے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں بغل اور زیر ناف بالوں کا صحیح مسنون طریقہ بمع حدود کے اور کتنے ایام کے بعد پوری تشریح مطلوب ہے۔ نیز اس کی بھی وضاحت کرے کہ زیر باف کے بالوں میں دبر کے بال شامل ہے کہ نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ہفتہ میں ایک دفعہ اپنے بدن کی صفائی ( جس میں بغلوں کے بال، مونچھیں اور زیر ناف کے بال بھی شامل ہیں ، ان کا صاف) کرنا مستحب ہے، اگر اس میں نہ ہو سکے تو پندرہ دن میں ایک دفعہ اگر پندرہ دن میں بھی نہ ہو سکے تو بوقت مجبوری چالیس دن تک کی گنجائش ہے، چالیس دن سے زیادہ دن تک بغیر صفائی کیے رہنے کی قطعاً گنجائش نہیں، اس سے زیادہ یا چالیس دن تک بغیر صفائی کے رہنے میں بڑی سخت و عید آئی ہے ۔
پھر بغل کے بالوں کا مونڈنا بھی جائز ہے البتہ اگر اکھیڑنے کی فرصت یا طاقت ہو تو پھر اکھیڑ نا افضل ہے ۔ اور زیر ناف بالوں کو مونڈنا چاہیے اور ان کی حدود یہ ہیں کہ ناف کے نیچے جہاں پیٹ کی شکن پڑتی ہے یعنی اکٹروں بیٹھنے کی صورت میں جوبل سا بنتا ہے وہاں سے حد شروع ہوتی ہے ۔ لہذا اس جگہ پر اگنے والے بال دونوں رانوں تک ، آلہ تناسل کے ارد گرد اور خصیتین کے بال اور خصیتین کے نیچے کے بال نیز پاخانہ کے مقام اور اس کے ارد گرد کے بال موئے زیر ناف میں شامل ہیں اور اس تفصیل کے مطابق اس پورے حصے کے بال بقدر الامکان صاف کرنا ضروری ہے۔ ناف سے متصل اور پیٹ کی شکن کے اوپر کے بال موئے زیر ناف میں شامل نہیں ۔ اور اسی طرح دونوں رانوں کے بال بھی موئے زیزِ ناف کے حکم میں شامل نہیں ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين مجتبى اھ (6/ 406)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ويستحب حلق عانته) قال في الهندية ويبتدئ من تحت السرة ولو عالج بالنورة يجوز كذا في الغرائب و في الأشباه والسنة في عانة المرأة النتف (قوله وتنظيف بدنه) بنحو إزالة الشعر من إبطيه ويجوز فيه الحلق والنتف أولى. و في المجتبى عن بعضهم وكلاهما حسن، ولا يحلق شعر حلقه، وعن أبي يوسف لا بأس به ط. (6/ 406)
و في الدر المختار: (وكذا يستحب) لمريد الإحرام إزالة ظفره وشاربه وعانته وحلق رأسه إن اعتاده وإلا فيسرحه اھ (2/ 481)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): وكذا نتف الإبط، والعانة الشعر القريب من فرج الرجل والمرأة ومثلها شعر الدبر بل هو أولى بالإزالة لئلا يتعلق به شيء من الخارج عند الاستنجاء بالحجر اھ (2/ 481) والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی عبد اللہ شوکت صاحب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91192کی تصدیق کریں
0     19
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات