میرا شوہر مجھ پر پیچھے کی جانب سے (یعنی مقعد کے راستے) جماع کرنے پر اصرار کرتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ یہ عمل شریعت میں ممنوع ہے اور اس سے نکاح بھی ختم ہو جاتا ہے۔ براہِ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ کیا یہ عمل اسلام میں جائز نہیں ہے؟ اور اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیئے؟
واضح ہو کہ عورت کے پچھلے راستے سے جماع کرنا غیر فطری عمل اوربدترین گناہ ہے ،آنحضرت ﷺ نے نہ صرف اس سے منع فرمایا ہے، بلکہ ایسے شخص کو جو اپنی بیوی کے پچھلے راستے سے جماع کرتا ہے، ملعون قرار دیکراس سے برأت کا اظہار فرمایا ہے،لہذاسائلہ کے لیے اس فعل ِبدمیں اپنے شوہرکوقدرت دیناجائز نہیں،بلکہ شوہرکواس فعل سے روکنا لازم وضروری ہے،اگرشوہرمنع کرنے کے باوجوداس پرمُصررہے توخاندان کے بڑوں کے سامنے اس مسئلہ کورکھ کراسے راہ راست پرلانے کی کوشش کرے،تاہم اگر اس سے قبل سائلہ سے لاعلمی میں یہ فعل سرزدہوگیاہو،تواس پر توبہ و استغفار کرے،لیکن اس سے ان دونوں کانکاح متاثرنہیں ہوا،وہ بدستورمیاں بیوی کی طرح زندگی بسرکرسکتے ہیں ،مگرآئندہ کے لیے اس فعل بدسے احترازبرتنالازم ہے۔
کما فی سنن أبی داود: عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ملعون من أتى امرأته في دبرها(باب فی جامع النکاح،ج:1ص:904،ط:بشری)
وفي مرقاة المفاتيح: وعن ابن عباس قال: رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «لا ينظر الله إلى رجل أتى رجلا أو امرأة في الدبر» رواه الترمذي الخ (5/ 2094)
وفي البحر الرائق: وفي الينابيع ولا يحل له أن يأتي زوجته في الدبر إلا عند أصحاب الظاهر وهو خلاف الإجماع الخ (8/ 220)