کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسماۃ اسماء بنت صاحب شاہ کا نکاح شہزاد خان بن محمد خان سے آج سے تقریباًچار مہینے قبل ہوگیا تھا ،اس دوران مجھے سسر نے غلط حرکتوں کی وجہ سے پریشان کیا تھا ،جسکی وجہ سے میں اپنے والدین کے گھر آگئی تھی ،سسر کے حرکتوں کے متعلق میرا حلفیہ بیان ہے ،کہ میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہی ہوں ،کہ میں جو کچھ کہونگی سچ کہونگی اگر میں نے بیان میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لیا تو اسکا عذاب اور وبال مجھ پر ہوگا ،
(1)شادی کے کچھ تقریباًبارہ تیرہ دن کے بعد میں کمرے میں لیٹ گئی تھی،دیوار کی طرف منہ کرکے تو میرے سسر آئے اور میرے ساتھ پیچھے لیٹ گئے ،اور میرے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگے،کپڑے سمیت میرے پستانوں پر ہاتھ پھیرنے لگے ،اور پھر مجھے چومنے لگے ،میرے ہونٹوں پر اور میرے گلے پر،تو اس وقت میری نند آئی تو یہ اٹھ گئے ۔
(2)دوسری موقع پر میرے سسر گھر آئے اور مچھلی لائے ،شراب بھی لیکر آئے ،شراب پی کر باقی مجھے دے دی کہ یہ اپنی الماری میں رکھو،پھر مجھے اپنے پاس بلایا ،مجھے ساتھ بٹھایا ،پھر مجھے فوم میں دھکا دیکر مجھے پکڑلیا ،میری قمیض اٹھائی اور میرے سینے پر منہ رکھا ،میں نے اسکو دھکا دیا ،اور اسکو چوٹ بھی لگی،کیونکہ ان دنوں میں اس کا ایکسڈنٹ بھی ہو ا تھا ۔
(3)تیسرا موقع :ہم گھر پر تھے میری ساس سورہی تھی اس نے مجھے بھی کہا کہ جا کر سو جاؤمیں بھی آکر اپنے کمرے میں کمبل اوڑ کر لیٹ گئی،میرے سسر آئے ،اور میرے پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے،میں جلدی بیٹھ گئی ،میں نے پوچھا کہ ابو آپ کو کچھ چاہئے ،تو اس نے کہا کہ نہیں بس میرے ساتھ بیٹھ جاؤ ،اس دوران میری ساس کی کھانسنے کی آواز آئی ،تو یہ جلدی اٹھ گئے،اور منجن کرنے لگے۔
(4)میری ساس اور ایک نند رشتہ داروں کے ہاں گئی تھی ،اور ایک گھر پر سوئی ہوئی تھی،کہ سسر گھر آئے ،تو مجھے اپنے ساتھ بٹھایا ،پھر مجھے دھکا دیا ،اور مجھے کہا کہ کپڑے اتار دو،اور خود کا شلوار نیچے کیا ،میں نے اپنی شلوار مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی ،اور یہ میرے اوپر اپنا عضو میرے ساتھ مل رہے تھے ،اور اس کے عضو میں تناؤ تھی،جب مجھے موٹر سائیکل پر والدین کے گھر لےجاتے تو مجھے کہتے کہ اپنا جسم میرے ساتھ لگاؤ ،اور میرے کمر میں ہاتھ ڈال دو ، جب یہ باتیں میں نے اپنے شوہرکو بتائی تو اس نے کہا کہ وہ بڑوا کا بچہ ایسا ہی ہے ۔
(5) ایک موقع پر میری ساس ، نند اور میں ہم ایک کمرے میں سوئی ہوئی تھیں ،پھر میں اٹھ کر اپنے کمرے میں سو گئی تو آئے اور پردہ بند کرکے میری قمیص اٹھائی اور میرے سینے پر منہ رکھ کر دبایا تو درد کی وجہ سے میری آنکھ کھل گئی ،اور میں سمجھی کہ یہ میرے شوہر شہزاد ہے تو میں نے کہا کہ شہزاد تم یہ کیا کر رہے ہو تو اس نے کہا کہ میں ہوں اور پھر مجھے پکڑ کر میرے گلے پر کس کر نے لگے لیکن میں نے نہیں کرنے دی ۔
سسر محمد خان کا حلفیہ بیان :میں مسمی محمد خان اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلفیہ بیان دے رہا ہوں،کہ میری بہو نے جو بھی باتیں بتائی ہے ،الزمات لگائے ہیں ،یہ سراسر جھوٹ ہے،میں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی بلکہ یہ میری بیٹی کی طرح ہے
شوہر مسمی شہزاد اپنی بیوی کی دعوی کی تصدیق نہیں کرتا بلکہ انکار کرتا ہے،
اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں ہمارے لیے کیا حکم ہے
صورت مسؤلہ میں سائلہ کے پاس چونکہ اپنے دعوی پر گواہ موجود نہیں ہیں ،اور شوہر بھی اس کی با ت کی تصدیق نہیں کررہا اوراس طرح سسر بھی قسم کھاکر سائلہ کی بات کی تر دید کررہا ہے،اس لئے ایسی صورت میں سائلہ اور اسکے شوہر کے درمیان مذکور واقعات کی بناء پر قضاءً حرمت مصا ہرت کا حکم تو نہیں لگایا جاسکتا،البتہ اگر سائلہ اپنے دعویٰ میں سچی ہو، تو دیانۃً اس کو اپنے شوہر کے ساتھ مزید ازدواجی حیثیت کے ساتھ رہنا درست نہیں، بلکہ اس کو چاہئے کہ شوہر سے طلاق یا خلع کے ذریعے خلاصی حاصل کرنے کی کوشش کرے،اور شوہر کو بھی چاہئے کہ اگر اس کو اپنی بیوی کی بات پر اعتماد ہو تو اپنی آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے بیوی کو الفاظ متارکت مثلاً میں تمہیں چھوڑتا ہوں ،وغیرہ کہہ کر علیحدہ کردے، تاکہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہو ۔
کما فی الھندیۃ: رجل تزوج امرأة على أنها عذراء فلما أراد وقاعها وجدها قد افتضت فقال لها: من افتضك؟ . فقالت: أبوك إن صدقها الزوج؛ بانت منه ولا مهر لها وإن كذبها فهي امرأته، كذا في الظهيرية. لو ادعت المرأة أن مس ابن الزوج إياها كان عن شهوة لم تصدق والقول قول ابن الزوج، كذا في السراج الوهاج. رجل قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة وأنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج، وإن صدقه الزوج وقعت الفرقة ويجب المهر على الزوج(کتاب النکاح،باب المحرمات،ج:1،ص:272،دارالفکر بیروت)
وفی الرد: والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه. والفتوى على أنه ليس لها قتله، ولا تقتل نفسها بل تفدي نفسها بمال أو تهرب، كما أنه ليس له قتلها إذا حرمت عليه وكلما هرب ردته بالسحر. و في البزازية عن الأوزجندي أنها ترفع الأمر للقاضي، فإنه حلف ولا بينة لها فالإثم عليه. اهـ. قلت: أي إذا لم تقدر على الفداء أو الهرب ولا على منعه عنها فلا ينافي ما قبله(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج:3،ص:251،ط سعید).