ہمارے والد نے گھر بنایا جس کے ایک پورشن میں وہ اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہتے ہیں اور اوپر والا پورشن انہوں نے میرے بھائیوں کو دیا ہے۔ ایک بھائی شادی شدہ ہے جس کی بیوی کے ساتھ کچھ معاملات خراب ہوئے ہمارے والد اور ان کی بیوی کے۔ اب وہ ہر وقت اپنی بیوی کو اوپر بھیجتے ہیں کہ سُن گُن لے کر آئیں کہ اوپر کیا ہو رہا ہے، کتنا آیا، یہاں تک کہ وہ بہو کا فریج تک کھول کر چیک کرتی ہیں کہ کیا رکھا ہے، کمرے کی کتنی لائٹس آن ہیں، کتنے پنکھے چل رہے ہیں، وہ کیا کر رہی ہے کیا نہیں۔ اور سب خبر جا کر ہمارے والد کو دیتی ہیں، اس کے بعد مسئلے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ آپ اسلامی علم سے یہ بتا دیجیے کہ بہو بیٹے کے معاملات میں یا کسی قسم کی نظر رکھنا ان کے معمولات میں کیسا ہے؟ جبکہ ہمارے والد کا ان کے گھر کے خرچ میں کسی قسم کا کوئی حصہ نہیں، وہ لوگ محنت سے اپنا کماتے ہیں اور اپنا کھاتے ہیں صبر شکر کے ساتھ۔ کتنا دخل دے سکتے ہیں اور کتنا نہیں، براہِ کرم رہنمائی کریں۔ جزاک اللہ۔
صورت مسئولہ میں سائل کے والد محترم کے لئے اپنے بیٹے اور بہو کے ذاتی معاملات (کہ جن سے والد محترم کو کسی قسم واقعی ضرر و تکلیف نہ ہو )میں دخل انداز ہونا اور ان کے ذاتی معاملات میں پڑکر ان کو پریشان کرنا وغیرہ امور شرعا جائز نہیں ،جس سے انہیں احتراز لازم ہے۔البتہ غیر ضروری پنکھے لائٹیں بند کرنے میں حرج نہیں بلکہ اس کا خیال تو بیٹوں کو خود رکھنا چاہئے۔
کما قال اللہ تعالیٰ:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّـهَ ۚ إِنَّ اللَّـهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ۔(سورت الحجرات،آیت نمبر:12)
و فی تفسیر ابن کثیر :(لا تجسسوا )أي على بعضكم بعضا والتجسس غالبا يطلق في الشر ومنه الجاسوس.وأما التحسس فيكون غالبا في الخير كما قال عز وجل إخبارا عن يعقوب أنه قال يا بني اذهبوا فتحسسوا من يوسف وأخيه ولا تيأسوا من روح الله [يوسف: 87] وقد يستعمل كل منهما في الشر كما ثبت في الصحيح أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «لا تجسسوا ولا تحسسوا ولا تباغضوا ولاتدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا» وقال الأوزاعي: التجسس البحث عن الشيء. والتحسس الاستماع إلى حديث القوم وهم له كارهون أو يستمع على أبوابهم، والتدابر: الصرم، رواه ابن أبي حاتم عنه.اھ(سورۃ الحجرات، ج:7، ص:354، ط:دار الكتب العلمية)
و فی صحیح بخاری:عن أبي هريرة،عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (إياكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث، ولا تحسسوا، ولا تجسسوا، ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، ولا تباغضوا، وكونوا عباد الله إخوانا).اھ(كتاب الأدب، باب:ما ينهى عن التحاسد والتدابر، ج:8، ص:19، رقم:6064، ط:السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية)