عدّت کے دوران کا خرچ شوہر کے ذمے ہوتا ہے یا نہیں، اگر اس عورت سے کوئی اولاد نہ ہو، اور شوہر طلاق دینے سے پہلے ہی عورت کو اس کے ماں باپ کے گھر بھیج دے، تو کیا ایسی صورت میں عورت نان و نفقہ کی حق دار ہوگی یا نہیں؟
میاں و بیوی کے درمیانعلیحدگی ہوجانے کی صورت میں اگر عورت ناشزہ (یعنی بغیر کسی معقول وجہ کے شوہر کی اجازت کے بغیر وہ خود سے گھر چھوڑ کر نہ گئی ہو )بلکہ شوہر نے ازخود اسے گھر سے نکال دیاہو، تو ایسی صورت میں طلاق دینے کے بعد شوہر پر فقط ایام عدت کا نان ونفقہ لازم ہوگا، جبکہ ایام عدت گزرجانے کے بعد چونکہ مرد وعورت ایک دوسرے کے حق میں اجنبی بن جاتے ہیں اس لئے ایام عدت گزرنے کے بعد عورت کا ذاتی اخراجات کے لئے مرد سے رقم کا مطالبہ کرنا شرعاًدرست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی التنزیل:أَسۡكِنُوهُنَّ مِنۡ حَيۡثُ سَكَنتُم مِّن وُجۡدِكُمۡ وَلَا تُضَآرُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُواْ عَلَيۡهِنَّۚ وَإِن كُنَّ أُوْلَٰتِ حَمۡلٖ فَأَنفِقُواْ عَلَيۡهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۚ اھ(سورۃ الطلاق،ایت:6)
وفی الھدایۃ:وإذا طلق الرجل امرأته فلها النفقة والسكنى في عدتها رجعيا كان أو بائنا الخ (باب النفقۃ، ج:1،ص:446،ناشر: رحمانیہ)
وفی الھندیۃ: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه اھ(الفصل الاول فی نفقۃالزوجۃ،ج:1،ص:545،ناشر:ماجدیہ)
وفی الدر المختار:(لا) نفقة لأحد عشر(الیٰ قولہ)و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعوداھ(باب النفقۃ، ج:3،ص:575،ناشر:سعید)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0