محترم مفتی صاحب / عالمِ دین صاحب!
اسلامی نقطۂ نظر سے ایک مسئلہ کی رہنمائی درکار ہے:
ایک کمپنی میں یہ قاعدہ (کنٹریکٹ میں لکھا ہوا) ہے کہ اگر کوئی ملازم تین دن پندرہ پندرہ منٹ لیٹ آئے تو اس کی ایک دن کی پوری تنخواہ کاٹ لی جائے گی۔ اکثر ملازمین یہ شرط اپنی مجبوری کی وجہ سے قبول کرتے ہیں کیونکہ روزگار کے سوا ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی واقعی حادثہ، بیماری، ٹریفک جام یا کوئی ہنگامی مجبوری پیش آ جاتی ہے جس کی وجہ سے لیٹ ہونا پڑتا ہے، اس کے باوجود پوری دن کی تنخواہ کاٹ لی جاتی ہے۔
دوسری طرف آجر (Employer) یہ کہتا ہے کہ اگر اتنی سختی نہ کی جائے تو ملازمین جان بوجھ کر لیٹ آئیں گے، نظم و ضبط خراب ہو جائے گا اور ماحول بگڑ جائے گا۔
اب سوال یہ ہے:
کیا شرعاً 15 منٹ کی تاخیر پر ایک دن کی مکمل تنخواہ کاٹنا، اگرچہ کنٹریکٹ میں لکھا ہو، جائز ہے جبکہ ملازم نے مجبوری میں اس شرط کو قبول کیا ہو؟
اگر لیٹ ہونا حقیقی مجبوری (حادثہ، بیماری، ایمرجنسی) کی وجہ سے ہو تو بھی کیا ایسی سخت کٹوتی کرنا انصاف کے مطابق ہے؟
اسلام کی روشنی میں ایسا کیا نظام ہونا چاہیے کہ:
آجر بھی گناہ اور ظلم میں نہ پڑے
ملازم بھی لاپرواہی اور جان بوجھ کر لیٹ آنے کا عادی نہ بنے
نظم و ضبط بھی قائم رہے
اور کسی کا حق بھی ناجائز طور پر ضائع نہ ہو؟
مزید یہ کہ اگر کبھی آجر خود ضرورت کے تحت ملازم سے روزانہ کی ڈیوٹی کے بعد مسلسل 5 یا 6 گھنٹے اضافی کام لے (اوور ٹائم)، تو شرعاً اس کے بدلے ملازم کے ساتھ کیا اصول اور قاعدہ ہونا چاہیے؟
یعنی ایسا کیا نظام ہو کہ:
ملازم کو اس کی اضافی محنت کا حق بھی ملے
آجر پر بھی ناجائز بوجھ نہ پڑے
اور دونوں کے درمیان انصاف، رضامندی اور خوش دلی قائم رہے؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں ایسا متوازن حل بتائیں جس میں عدل، رحم، ذمہ داری اور باہمی رضامندی تینوں جمع ہو جائیں۔
واضح ہو کہ کسی بھی کمپنی یا ادارے کے ساتھ متعین اوقات میں کام کرنے کے لیے کیا جانے والا معاہدہ فقہی اعتبار سے عقد اجارہ کہلاتا ہے جس میں اجیر خاص (کام کرنے والا شخص) مقررہ مدت میں اپنی خدمات اسی ادارے کو فراہم کرنے کا پابند ہوتا ہے، اور اسی بنیاد پر وہ اجرت کا مستحق ہوتا ہے اور اجیر خاص جتنا وقت کام کرے گا، اسی کے مطابق وہ اجرت کا مستحق قرار پائے گا اور جن اوقات میں وہ تاخیر سے آئے یا غیر حاضر رہے تو شرعا وہ ان اوقات کی اجرت کا حقدار نہیں بنتا ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر ملازم تاخیر کرتا ہے، تو جتنی تاخیر ہوئی ہے اسی کے مطابق اس وقت کی اجرت کی کٹوتی کرنا ادارے کی طرف سے شرعا جائز و درست ہے، البتہ مقررہ وقت سے زائد کٹوتی کرنا تعزیر مالی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے شرعا جائز نہیں، پس ادارے یا کمپنی کو چاہیے کہ صرف منٹوں یا گھنٹوں کی تاخیر کی صورت میں انہیں تاخیری اوقات کے حساب سے اجرت کی کٹوتی کرے، اگر ملازم پورا دن غیر حاضر رہے تو اس دن کی مکمل اجرت کاٹی جا سکتی ہے، لیکن چند گھنٹوں کی تاخیر کی وجہ سے پورے دن کی اجرت کا کاٹنا شرعا درست نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔اسی طرح اگر کبھی کوئی ادارہ خود ضرورت کے تحت ملازم سے روزانہ کی ڈیوٹی کے بعدکچھ گھنٹے اضافی کام (اوور ٹائم)لینا چاہے تو باہمی رضا مندی سے اس اضافی وقت کی الگ اجرت مقرر کرلے ،پھر ملازم کو اختیار ہو کہ وہ اضافی اوقات میں کام کرنا چاہے تو اضافی اوقات لگا کر اضافی اجرت حاصل کرےاور چاہے تو نہ کرے، کسی بھی کمپنی یا ادارے کا ملازم کو بغیر اجرت کے اوور ٹائم کے لئے مجبور کرنا جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل۔اھ. (کتاب الاجارہ، باب ضمان الاجیر، مبحث الاجیر الخاص،ج:6 ، ص:69 ،ط: سعید)۔
و فی رد المحتار: وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل، فتاوى النوازل (قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلاً يوماً يعمل كذا، فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة، وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضاً. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلاً، وعليه الفتوى (الی قولہ) (قوله: ولو عمل نقص من أجرته إلخ) قال في التتارخانية: نجار استؤجر إلى الليل فعمل لآخر دواة بدرهم وهو يعلم فهو آثم، وإن لم يعلم فلا شيء عليه، وينقص من أجر النجار بقدر ما عمل في الدواة الخ۔اھ. (کتاب الاجارۃ،ج:6،ص:70،ط:سعید)
وفی شرح المجلۃ: لایجوز لأحد أن یاخذ مال أحد بلا سبب شرعي الخ۔ (ج:1،ص:264،مادۃ: 97، ط: رشیدیہ)۔
وفی البحر الرائق: وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال"اھ.( فصل فی التعزیر ج:5، ص:41، ،ط: سعید)۔