اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَا تُهُ
میں یہ معلوم کرنا چاہ رہا ہوں کہ آنکھ کا آپریشن( موتیا ) کے متعلق شریعت کا کیا حکم ہے ۔ میرا یہ بدن اللہ سبحانہ و تعالی کی امانت ہے اس میں قطع برید کی اجازت تو نہیں ہو گی پھر ہم کیسے اس کا جواز پیش کر سکتے ہیں؟
جزاک اللہ خیرا ضیاء الرسول
اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی اعضاء و جوارح انسان کے پاس اللہ تعالی کی امانت ہے ، جس میں وہ اپنی مرضی سے مطلقا ہر قسم کی قطع و برید نہیں کرسکتا، لیکن اللہ تبارک وتعالی نے انسانی جان کے تحفظ کےلئے انسان کو علاج و معالجے کی بھی اجازت دی ہے، چنانچہ اگر کسی عضو میں موجود بیماری جان جانے کا یا اس عضو کے تلف ہونے کا باعث بن رہی ہو تو ایسی صور ت میں بذریعہ آپریشن اس متاثرہ عضو کا علا ج و معالجہ کرنا اللہ تعالی کی امانت میں قطع و برید نہیں بلکہ عین منشاء خداوندی ہے لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر آنکھ کے موتیے کا آپریشن کیے بغیر علاج ممکن نہ ہو تو ضرورتِ کے وقت کسی ماہر و تجربہ کار ڈاکٹر کے مشورے سے بذریعہ آپریشن آنکھ کے موتیا کا علاج کروانا جائز اور درست ہو گا
وفي البنایۃ «عن أسامة بن شريك، قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه كأنما على رءوسهم الطير فسلمت ثم قعدت فجاء الأعراب من هنا وها هنا فقالوا: يا رسول الله أنتداوى؟. فقال: " تداووا، فإن الله عز وجل لم يضع داء إلا وضع له دواء غير داء الهرم(ج: 12 ص : 269 باب حکم التداوی ناشر :سعید)
عورت کے پستان کو اور مرد کے عضو خاص کو بڑھانے کے لیے دواء یا کریم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0Bone Marroz یعنی ایک انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا ،کسی مریض کی Vein میں داخل کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0ادارے کے ڈاکٹر کا مریضوں کو مفت ٹیسٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹیسٹ کی ترغیب دینے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0کمپنی کے ملازمین کا علاج معالجہ کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ کی سہولیت استعمال کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0