ہمارے ہسپتال میں ریٹایرڈ فوجی افسران کی فیملی کا علاج کیا جاتا ہے ، جس کی وجہ سے خواتین کی تعداد مردوں سے کافی زیادہ رہتی ہے ، اور ہسپتال میں کوئی ایسا نظام بھی موجود نہیں , گائینی کے شعبہ کے علاوہ , کہ مرد مرد کو اور خاتون خاتون کو چیک کرے گی ، تو کیا اس ہسپتال میں ڈاکٹر کی جاب کرنا جائز ہوگا ؟ اگر نہیں تو کیا ایسے ہسپتال میں جائز ہوگا جہاں مرد اور خواتین کی تعداد برابر ہو ؟ جبکہ وہاں بھی مرد کو مرد اور خاتون کو خاتون چیک کرنے والا نظام موجود نہ ہو ؟
اوپر کی بااختیار انتظامیہ پر لازم ہے کہ وہ انتظام کریں کہ مرد ڈاکٹر مردوں کا علاج کرے اور لیڈی ڈاکٹر عورتوں کا علاج کرے ، البتہ اگر کسی جگہ مجبوری ہو اور وہاں خواتین کیلئے لیڈی ڈاکٹر کا انتظام نہ ہو تو ایسی مجبوری میں مرد ڈاکٹر بھی خواتین کا علاج کرسکتے ہیں ، لہذا سائل کیلئے مذکور ہسپتال میں ڈاکٹر کی جاب کرنا جائز ہے۔
کما فی الفتاوىٰ الهندية : و يجوز النظر إلى الفرج للخاتن و للقابلة و للطبيب عند المعالجة و يغض بصره ما استطاع (الی قوله) امرأة أصابتها قرحة في موضع لا يحل للرجل أن ينظر إليه لا يحل أن ينظر إليها لكن تعلم امرأة تداويها ، فإن لم يجدوا امرأة تداويها ، و لا امرأة تتعلم ذلك إذا علمت و خيف عليها البلاء أو الوجع أو الهلاك ، فإنه يستر منها كل شيء إلا موضع تلك القرحة ، ثم يداويها الرجل و يغض بصره ما استطاع إلا عن ذلك الموضع۔اھ (5/ 330)۔
عورت کے پستان کو اور مرد کے عضو خاص کو بڑھانے کے لیے دواء یا کریم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0Bone Marroz یعنی ایک انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا ،کسی مریض کی Vein میں داخل کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0ادارے کے ڈاکٹر کا مریضوں کو مفت ٹیسٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹیسٹ کی ترغیب دینے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0کمپنی کے ملازمین کا علاج معالجہ کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ کی سہولیت استعمال کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0