میں جلد کا ماہر ہوں ،ہم جلد کے مسائل کے لئے بو ٹوکس میں فلر کرتے ہیں،وہ 6 ماہ میں غائب ہوجاتے ہیں،اس سے مریض کی شکل نہیں بدلتی، دوسرا نیا علاج بالوں کی نشو و نما کے لئے سر میں اسٹیم سیل کا انجکشن ہے ،تحقیق کے مطابق یہ سٹیم سیل انسانی چربی اور ایمبریو خون سے بنتے ہیں ،ہم اس سے کھوپڑی میں انجکشن لگاتے ہیں ،کیا اسلام میں جائز ہے؟
واضح ہو کہ مختلف ذرائع سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق بوٹوکس ایک جدید طریقۂ علاج ہے جس میں انجکشن کے ذریعے مخصوص دوائی جلد میں داخل کی جاتی ہےجس کی وجہ سے جلد میں تازگی پیداہونے کے ساتھ اس پر موجود جھریاں بھی ختم ہوجاتی ہیں ،اگر یہ انجکشن مضر صحت نہ ہو اور نہ ہی اس میں استعمال ہونے والی دوا میں ناپاک اور حرام اجزاء کی آمیزش ہو اور نہ ہی اس سے دھوکہ دہی کے لئے استعمال کیا جاتا ہو،تو اس طریقہ علاج کو اختیار کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں , ورنہ اس سے احتراز ضروری ہے،جبکہ بالوں کی نشونما کیلئے لگایا جانے والا مذکور انجکشن اگر انسانی چربی اور خون سے بنا ہو اور اس کی ماہیت تبدیل نہ ہوئی ہو تو اس کا لگانا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالی: وَ لَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ وَ مَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا الآیہ(النساء:119)۔
و فی تفسیر الطبری جامع البیان: حدثنا أحمد بن حازم قال، حدثنا أبو نعيم قال، حدثنا أبو هلال الراسبي قال: سأل رجل الحسن: ما تقول في امرأة قشرت وجهها ؟ قال: ما لها، لعنها الله! غيرت خلق الله اھ(رقم:10486)-
وفیہ ایضاً: حدثني أبو السائب قال، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن إبراهيم قال: قال عبد الله: لعن الله المتفلجات و المتنمصات و المستوشمات المغيرات خلق الله اھ (رقم:10487)۔
و فی تفسیر الالوسی: و تغيير فطرة الله تعالى التي هي الإسلام و استعمال الجوارح و القوى فيما لا يعود على النفس كمالا اھ (3/144)۔
عورت کے پستان کو اور مرد کے عضو خاص کو بڑھانے کے لیے دواء یا کریم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0Bone Marroz یعنی ایک انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا ،کسی مریض کی Vein میں داخل کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0ادارے کے ڈاکٹر کا مریضوں کو مفت ٹیسٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹیسٹ کی ترغیب دینے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0کمپنی کے ملازمین کا علاج معالجہ کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ کی سہولیت استعمال کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0