کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ میرا ایک ۶ ماہ کا لڑکا ہے ، اور پیدائشی خون کے White Cells کی کمزوری میں مبتلا ہے ، یہ بیماری کبھی بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے ، اس کا نام CHRONIC GRANUCOMATEOES DISEASE (SGD ) ہے ، ابھی اس کی طبیعت اچھی ہے ، شروع میں تین ماہ کافی بیمار تھ ا، اسی بیماری کی وجہ سے میری ۱۴ سالہ بچی ، ڈھائی سال قبل ، اللہ کو پیاری ہوگئی اور یہ دوسرا کیس میرے بچے کے ساتھ ہے، یہ بیماری معدوم ہے ، چند ایک کو ہوتی ہے ، اس کی Diagnosis ہر ایک نہیں کرسکتا ، اس کے علاج کیلئے ایک طریقہ ہے ، جو دوماہ قبل ۱۴ ماہ کے بچے کو کیا ہے، جو بے حد کامیاب رہ ا، خون کے ٹیسٹ سے بعد اس میں اس بیماری کا کوئی ثبوت نہیں ملا ، اب ڈاکٹر حضرات اس علاج کو جس کو BONE MARROW TRANSPLANT کہتے ہیں ، جس میں ایک اچھے صحت مند کا Bone Marroz یعنی انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا نکال کر مریض کی Vein میں داخل کرتے ہیں، مریض کو ۶ یا ۸ ہفتے بالکل الگ رکھا جاتا ہے ، شروع میں کچھ مقدار Chemotherady دی جاتی ہے، Donor (گودا دینے والے) کو سلا کر اس کے کولہے کے پاس سے سوئی کے ذریعے گودا نکالا جاتا ہے ، بہرحال میں نے یہ تفصیل لکھ دی ہے ، زیادہ تر Matching مریض کے بھائی یا بہن سے ہوتی ہے ، اس سے باہر بہت مشکل ہے۔
شریعت کے اندر ، ان حالات اور بیماری میں اس کی کیا گنجائش ہے ، میں یہ معلوم کرنا چاہتا ہوں، اس کی تفصیل بذریعہ ای میل مجھے معلوم کرادیں، اور ساتھ ہی جامعہ بنوریہ کے مفتی محمد نعیم صاحب کی اجازت کی شکل میں اس کو روانہ کرنا ہوگا ، اس لئے از راہِ کرم اس مسئلہ کا جواب اپنی پہلی فرصت میں روانہ فرمادیں۔
آپ حضرات سے خصوصی طور سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ جزاک اللہ خیراً
نوٹ : واضح ہو کہ مذکور گودا خون کی مثل ہوتا ہے ، نیز دینے والے کو نقصان بھی نہیں ہوتا ، سوائے سوئی کی تکلیف کے۔
صورتِ مسئولہ میں جس گودے کا ذکر ہے، اس کا استعمال اعضاءِ انسانی کے احترام کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ ، نجس ہونے کی وجہ سے بھی ناجائز ہے، لہٰذا عام حالات میں تو اس قسم کے علاج سے احتراز کرنا ہی لازم ہے ، البتہ حالتِ اضطراری میں ، آئندہ آنے والی شرطوں کا لحاظ کرتے ہوئے، ماہر ڈاکٹروں کے مشورہ سے اس گودے کو منتقل کیا جائے تو اس کی گنجائش ہے ، اور حالتِ اضطراری سے مراد یہ ہے کہ مذکور طریقہ پر علاج کئے بغیر مریض کی جان کا خطرہ ہو ، اور کوئی دوسری مؤثر دوا اس کی جان بچانے والی موجود نہ ہو ، اور اس طریقہ پر علاج کے ذریعہ مریض کی جان بچ جانے کا ظنِ غالب ہو ، نیز یہ بھی ضروری ہے کہ اس طریقہ پر گودا دینے والے کی ہلاکت یا بیماری کا خطرہ بھی نہ ہو ، چنانچہ ان شرائط کا لحاظ کرتے ہوئے مذکور طریقہ پر علاج کرانے کی گنجائش ہے۔ واﷲ اعلم
کتبہ:
عبداﷲ شوکت کان اﷲ لہٗ
دارالافتاء جامعہ بنوریہ کراچی ۱۶
۱۵؍۱؍۱۴۱۸ھـ
الجواب صحیح
اصغر علی ربانی
دارالافتاء دارالعلوم کراچی ۱۴
۲۴؍۱؍۱۴۱۸ھـ
الجواب صحیح
بندہ سیف اﷲ جمیل
دارالافتاء جامعہ بنوریہ کراچی ۱۶
۱۵؍۱؍۱۴۱۸ھـ
الجواب صحیح
احقر محمود اشرف غفر اﷲ لہٗ
دارالافتاء دارالعلوم کراچی ۱۴
۲۴؍۱؍۱۴۱۸ھـ
عورت کے پستان کو اور مرد کے عضو خاص کو بڑھانے کے لیے دواء یا کریم استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0Bone Marroz یعنی ایک انسان کی ہڈی کے اندر کا گودا ،کسی مریض کی Vein میں داخل کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0ادارے کے ڈاکٹر کا مریضوں کو مفت ٹیسٹ کے بجائے پرائیویٹ ٹیسٹ کی ترغیب دینے کا حکم
یونیکوڈ علاج و دواء 0کمپنی کے ملازمین کا علاج معالجہ کے لیے میڈیکل انشورنس کارڈ کی سہولیت استعمال کرنا
یونیکوڈ علاج و دواء 0