کیا میں نے کوئی گناہ کیا؟ میں ناقابلِ معافی گناہوں کے بارے میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا، لیکن میں حیران اور الجھن میں پڑ گیا کیونکہ اللہ ہر چیز کو معاف کرتا ہے، اور اگر اللہ کسی کو معاف نہیں کرنا چاہتا تو وہ اسے ہدایت بھی نہیں دیتا، دیکھتے وقت میری آنکھیں کچھ زیادہ کھل گئیں اور میں حیران رہ گیا، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا یہ مذاق یا تمسخر کے زمرے میں آتا ہے یا کچھ اور، اور وہ آواز اس کی اصل آواز نہیں تھی بلکہ کسی اے آئی آواز یا اس جیسی تھی، اور اس کا چہرہ بھی دکھایا نہیں گیا تھا، کیا میں نے اس منظر میں کوئی گناہ کیا یا آنکھیں کچھ زیادہ کھولنے کی وجہ سے کوئی تمسخر کیا؟
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں ہے کہ سائل سے کیا ناقابلِ تلافی گناہ سرزد ہوا اور اس کے متعلق سائل کیا ویڈیو دیکھ رہا تھا تاکہ اس کے متعلق کوئی حتمی حکم لکھا جاتا، تاھم اگر سائل نے کوئی ایسی ویڈیو دیکھی ہو جس میں یہ بتایا جا رہا ہو کہ ””اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے‘‘ اور یہ بات سن کر سائل لاعلمی کی وجہ سے حیرت زدہ ہو ا ہو جس سے اس کی آنکھوں کی مخصوص کیفیت بن گئی ہو، لیکن سائل کا مقصد تمسخر اور مذاق اڑانا نہ ہو تو فقط حیرت زدہ ہونے پر جسمانی اعضاء کی مخصوص کیفیت پر تمسخر یا مذاق اڑانے کا اطلاق نہ ہوگا۔
كما قال الله تعالى في القرآن المجيد:وَمَآ أَرۡسَلۡنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِهِۦ لِيُبَيِّنَ لَهُمۡۖ فَيُضِلُّ ٱللَّهُ مَن يَشَآءُ وَيَهۡدِي مَن يَشَآءُۚ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ(سورة الابراهيم:٤)
وقال لله تعالى في مقام آخر:إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدِ ٱفۡتَرَىٰٓ إِثۡمًا عَظِيمًا(سورة النساء:٤٨)
وقال لله تعالى في مقام آخر:وَتُوبُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ(سورة النور:٣١)