گناہ و ناجائز

کیریٹن ہئیر ٹریٹمنٹ کا حکم

فتوی نمبر :
90754
| تاریخ :
2026-01-10
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کیریٹن ہئیر ٹریٹمنٹ کا حکم

کیاکیریٹن ہیئر ٹریٹمنٹ لگانا جائز ہے؟ کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے بالوں پر بننے والی تہہ اتنی پتلی ہوتی ہے کہ اس کی ظاہری شکل نہیں ہوتی، اور یہ مالیکیولر سطح پر ہوتی ہے، اس لیے جائز ہے کیونکہ یہ تیل کی تہہ سے مشابہ ہے جس سے وضو یا غسل باطل نہیں ہوتا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بدن کا ہر وہ حصہ جس کا دھونا غسل میں ممکن ہو اس کا دھونا ضروری اور لازم ہے، اور جو چیز پانی پہنچنے سے مانع اور رکاوٹ بنے اس کے ہوتے ہوئے وضو اور غسلِ واجب درست نہیں ہوں گے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کیریٹن ہیر ٹریٹمنٹ واقعةً اس نوعیت کا ہو کہ اس کی مستقل جسامت نہ ہو بلکہ رنگ کی طرح بالوں کے تابع ہو اور اس میں حرمت کی کوئی اور وجہ بھی نہ ہو تو اس کا استعمال درست ہوگا اور اس سے وضو اور غسل متاثر نہیں ورنہ بصورت دیگر اس کے استعمال سے احتراز لازم ہے.

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (ويجب) أى يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة.. وشعر رأس ولو متلبداً..الخ.(ج:1،ص:152، مطلب في أبحاث الغسل،مط،سعيد)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90754کی تصدیق کریں
0     174
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات