کیاکیریٹن ہیئر ٹریٹمنٹ لگانا جائز ہے؟ کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے بالوں پر بننے والی تہہ اتنی پتلی ہوتی ہے کہ اس کی ظاہری شکل نہیں ہوتی، اور یہ مالیکیولر سطح پر ہوتی ہے، اس لیے جائز ہے کیونکہ یہ تیل کی تہہ سے مشابہ ہے جس سے وضو یا غسل باطل نہیں ہوتا۔
واضح ہو کہ بدن کا ہر وہ حصہ جس کا دھونا غسل میں ممکن ہو اس کا دھونا ضروری اور لازم ہے، اور جو چیز پانی پہنچنے سے مانع اور رکاوٹ بنے اس کے ہوتے ہوئے وضو اور غسلِ واجب درست نہیں ہوں گے، لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کیریٹن ہیر ٹریٹمنٹ واقعةً اس نوعیت کا ہو کہ اس کی مستقل جسامت نہ ہو بلکہ رنگ کی طرح بالوں کے تابع ہو اور اس میں حرمت کی کوئی اور وجہ بھی نہ ہو تو اس کا استعمال درست ہوگا اور اس سے وضو اور غسل متاثر نہیں ورنہ بصورت دیگر اس کے استعمال سے احتراز لازم ہے.
كما في الدر المختار: (ويجب) أى يفرض (غسل) كل ما يمكن من البدن بلا حرج مرة.. وشعر رأس ولو متلبداً..الخ.(ج:1،ص:152، مطلب في أبحاث الغسل،مط،سعيد)