السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ خیریت سے ہونگے
ایک سوال ہے جس پر آپ کی راہنمائی کا طالب ہوں۔ سوال سے پہلے پس منظر آپ کے لیئے جاننا ضروری ہے
حقیر نے کئ سال پہلے اپنی سابقہ اہلیہ سے، تب جب وہ میرے نکاح میں تھیں، ان کے حق مہر میں سے دس تولہ سونا لیا تھا (زیورات)، گھر کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے۔ تاکہ ایک بار گھر مکمل ہو جائے تو اپنے گھر میں چلے جائیں گے ، کرائے سے نجات مل جائے گی۔ارادہ یہی تھا کہ حالات بہتر ہوجانے پر ان کو دوبارہ بنوا دوں گا، اتنا ہی جتنا لیا تھا اور ان سے کہا بھی تھا کہ انکو بنوا دوں گا۔
بعد میں حالات نے ایسا رخ لیا کہ اس قدر پیسے نہ ہوئے کہ ایک ساتھ ان کو اتنا زیور بنا کہ دے سکتا۔ بعد میں غلط فہمیوں نے ایسا جنم لیا کہ اہلیہ نے عدالت میں خلع کا دعویٰ دائر کردیا۔ ایک طویل عرصے کی کوشش کے بعد وہ (سابقہ اہلیہ) گھر کو آباد کرنے پر رضامند ہوگئیں اور عدالت میں صلح نامہ میں شرط یہ رکھی کہ میں ان کو سولہ تولہ کے طلائی زیوارات بنا کر دوں گا مگر یہ شرط گھر کو آباد کرنے سے مشروط تھی۔
کچھ ہی دنوں بعد انھوں نے اس صلح کے خلاف دوبارہ خلع کا دعویٰ دائر کردیا۔ اس بار حقیر نے دوبارہ عدالت سے مصالحت کے لیے درخواست دی ۔ جج صاحب کے بلانے پر، یہ شرط پیش کی کہ مصالحت جج کے سامنے ہوگی تاکہ وہ (سابقہ اہلیہ)بعد میں شرائط سے مکر نہ سکیں۔
یہ شرط حقیر کی سابقہ اہلیہ نے نہیں مانی اور یوں عدالت نے خلع کا حکم جاری کردیا اور خلع وقوع پذیر ہو گئی۔
شادی کے وقت حق مہر، 14 تولہ سونا طے ہوا تھا ، جو کہ زیورات کی صورت میں ادا کر دیا گیا تھا۔ خلع کی صورت میں یہ سونا ان کو واپس کرنا تھا جس کا مطالبہ حقیر نے ابھی تک نہیں کیا اسی پریشانی میں کہ ان کا دس تولہ میں نے گھر کی تعمیر کے لیے لیا تھا۔
اب سوال یہ ہے کہ
کیا میں ان کو ابھی بھی دس تولہ سونا دینے کا پابند ہوں جب کہ ان کو مجھے اس دس کے علاوہ بھی چار تولہ، یعنی کل ملا کر چودہ تولے سونا لوٹانا ہے؟
اور کیا اس چیز کی گنجائش ہے کہ میں یہ دس تولہ سونا ان کو نہ لوٹاوں کیونکہ یہ ویسے بھی مجھے واپس ملنا ہے اور باقی کا چار تولہ معاف کر دوں؟
تحریری طور پر راہنمائی فرمائیں
اگر اس معاملے میں مزید کسی وضاحت کی ضرورت ہو تو بھلا جھجک پوچھیں
جواب کا منتظر
آپ کا خیر اندیش
صورت مسئولہ میں میاں بیوی کی باہمی رضامندی سے مہر کے عوض یہ عدالتی خلع کا عقد ہوا تھا ، تو اس عقد کے نتیجہ میں سائل کی بیوی پر طے شدہ اور ادا کردہ چودہ تولہ سونا حق مہر شوہر کو واپس کرنا لازم ہے ، اسی طرح سائل نے تعمیر کی غرض سے جو زیور بیوی سے بطور قرض لیا تھا ، تو چونکہ سائل پر اس کی ادائیگی بھی لازم ہے ، لہذا سائل اگر بیوی سے واجب الوصول چودہ تولہ سونے میں اپنے ذمہ واجب الاداء دس تولہ منہا کرکے بقیہ چار تولہ اسے معاف کردے تو ا س سے شرعا سائل اس کے حق سے بری ہوجائیگا لیکن چونکہ یہ معاملہ حقوق العباد کا ہے اس لیے سائل کو چاہئے کہ وہ یہ تمام تر معاملات باقاعدہ اپنی سابقہ بیوی کے علم میں لاکر اس کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کے تحت سرانجام دیں ، تاکہ بعد میں اسے کسی قسم کے مشکلات کا سامنا نہ ہو
کما في البدائع : وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول (ج: ٣، ص: ١٤٥)
وفي الهداية: وقع بالخلع تطليقة بائنة ولزمها المال لقوله عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة الخ (كتاب الطلاق باب الخلع، ج:٢ص: ٢٦١، مط:داراحياءالتراث)
وفي البدائع : وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية.(كتاب القرض، فصل في حكم القرض، ج:٧، ص: ٣٩٦، مط: سعيد)