السلام علیکم
آج کل جو نعت خواں انڈین گانوں کی طرز پر نعت پڑھتے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے۔ جیسا کہ ایک مشہور گانا اور زیادہ تر لوگوں نے سنا بھی ہے اس کی طرز پر نعت پڑھنا ، اور سننا ، یا سن کر اس پر پیسے اڑانا شریعت کی رو سے کیسا ہے۔
جواب برائے مہربانی مکمل فتویٰ کی صورت میں ای میل کیجیئے گا ۔ پلیز
واضح ہوکہ حمد اور نعت پڑھتے وقت آواز کو خوبصورت بنانا، مناسب اتار چڑھاؤ ، ترنم ، آواز کو باریک یا لہراناوغیرہ یہ امورشرعاً مباح ہیں اور اس میں کوئی گناہ نہیں،لیکن نعت کو کسی گانے کی طرز پر اس انداز سے پڑھنا کہ سنتے ہی ذہن فوراً اسی گانے کی طرف چلا جائے یا گانے کی سی لذت محسوس ہو،یا گانے جیسا میوزک اس میں استعمال کیا جائے، شرعاً جائز نہیں، ایسی نظم و نعت کو پڑھنے اور سننے سے بچنا لازم ہے ، البتہ اگر غیر اختیاری طور پر آواز کو خوبصورت بناتے ہوئے کسی گانے کی طرز بن جائے یا اس کے مشابہ ہوجائے تو اگرچہ یہ ممنوع نہیں ، لیکن پھر بھی اس مشابہت سے بچنا ہی بہتر ہے،لہٰذا حمدیا نعت کو جان بوجھ کر گانے کے انداز پر پڑھنا یا سننا، جس سے گانے کا خیال اور لذت پیدا ہو، شرعا ناجائز اور اس پر پیسے اڑانا اضاعت مال ہے، جس سے اجتناب لازم ہے۔
کما في تفسیر القرطبی:فأما ما ابتدعه الصوفية اليوم في الإدمان على سماع الأغاني بالآلات المطربة من الشبابات و الطار و المعازف و الأوتار فحرام(س:لقمان،ج:14،ص:40،ط:دار احیاءالتراث العربی بیروت)
وفی الدر المختار : وفی السراج ودلت المسئلۃ أن الملاہي کلہا حرام(الی قولہ) قال ابن مسعود :صوت اللہو والغناء ینبت النفاق في القلب کما ینبت الماء النبات اھ(باب الحظر والإباحۃ،ج:6ص:348،ط:سعید)
وفیہ ایضا:وفي البزازية: استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام: «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه»۔۔الخ( باب الحظر والإباحۃ،ج:6ص:349،ط:سعید)
وفی رد المحتار : (قوله وكره كل لهو) أي كل لعب وعبث فالثلاثة بمعنى واحد كما في شرح التأويلات والإطلاق شامل لنفس الفعل، واستماعه كالرقص والسخرية والتصفيق وضرب الأوتار من الطنبور والبربط والرباب والقانون والمزمار والصنج والبوق، فإنها كلها مكروهة لأنها زي الكفار، واستماع ضرب الدف والمزمار وغير ذلك حرام وإن سمع بغتة يكون معذورا ويجب أن يجتهد أن لا يسمع قهستاني(فصل في البيع،ج:6،ص:395،ط:سعيد)
وفی البحرالرائق:في المعراج: الملاهي نوعان: محرم وهو الآلات المطربة من غير الغناء كالمزمار سواء كان من عود أو قصب كالشبابة أو غيره كالعود والطنبور لما روى أبو أمامة أنه عليه الصلاة والسلام قال «إن الله بعثني رحمة للعالمين وأمرني بمحق المعازف والمزامير» ولأنه مطرب مصد عن ذكر الله تعالى۔۔الخ (باب من تقبل شھادتہ ومن لا تقبل،ج:7،ص:88،ط:رشیدیۃ)
وفی الموسوعة الفقهیة الکویتیة: یختلف حکم الإسراف بحسب متعلقه، کما تبین فی تعریف الإسراف، فذهب بعض الفقهاء إلی أن صرف المال الکثیر فی أمور البر والخیر والإحسان لا یعتبر إسرافا، فلا یکون ممنوعا أما صرفه فی المعاصی والترف وفیما لا ینبغی فیعتبر إسرافا منهیا عنه، ولو کان المال قلیلًا(حكم الاسراف،ج:4،ص:178،ط:السلاسل)۔