گناہ و ناجائز

لکڑیوں کے باہم تبادلے کی صورت میں کمی بیشی کا حکم

فتوی نمبر :
90551
| تاریخ :
2026-01-04
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

لکڑیوں کے باہم تبادلے کی صورت میں کمی بیشی کا حکم

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ بعدازسلام مسنون۔ کیالکڑیوں میں خریدوفروخت کے اندرتفاضل جائز ھے یانہیں۔ یعنی دیارکے لکڑی چیڑکے لکڑی کے بدلے تفاضلاخریدوفروخت کرناشرعاکیساہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مکلیلی اور موزونی اشیاء اگر ہم جنس ہوں تو ان کا باہمی تبادلے کی صورت میں کمی پیشی جائز نہیں لیکن اگر دونوں کی جنس ایک نہ ہو تو اس میں کمی بیشی کے ساتھ خرید و فروخت جائز ہے، لہذا لکڑیاں اگر مختلف جنس کی ہوں ( جیسا کہ صورت مسؤلہ میں دیار کی لکڑی کا چیڑ کی لکڑی سے تبادلہ ہو رہا ہے)تو ایسی صورت میں تفاضلا (یعنی کمی پیشی کے ساتھ) اس کی خرید و فروخت میں شرعا کوئی حرج نہیں.

مأخَذُ الفَتوی

کما فى الهداية: الربا محرم في كل مكيل أو موزون إذا بيع بجنسه متفاضلا" فالعلة عندنا الكيل.(ج:٣،ص:٦٠)
وفى الدرالمختار: الربا ... فالظاهر من كلام المصنف تعريف ربا الفضل، لأنه هو المتبادر عند الإطلاق، ولذا قال في البحر فضل أحد المتجانسين. نعم هذا يناسب تعريف الكنز بقوله فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال اهـ .فإن الأجل في أحد العوضين فضل حكمي بلا عوض، ولما كان الأجل يقصد له زيادة العوض كما مر في المرابحة صح وصفه بكونه فضل مال حكما تأمل.(ج:٥،ص:١٦٨)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عاشق یونس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90551کی تصدیق کریں
0     83
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات