گناہ و ناجائز

والد بیمار اور معذور بیٹی کا پیپر تبدیل کرسکتاہے؟

فتوی نمبر :
90496
| تاریخ :
2026-01-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

والد بیمار اور معذور بیٹی کا پیپر تبدیل کرسکتاہے؟

محترم مفتی صاحب!

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کی خدمت میں ایک نہایت اہم شرعی مسئلے کے بارے میں رہنمائی (فتویٰ) چاہتا ہوں۔

میری بیٹی کی عمر 12 سال ہے۔ وہ شدید مرگی (Epilepsy) میں مبتلا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے ذہنی، جسمانی اور شدید جسمانی معذوری بھی ہے۔ وہ نہ سن سکتی ہے، نہ بول سکتی ہے، نہ چل سکتی ہے۔ وہ ہر وقت بستر پر لیٹی رہتی ہے اور مسلسل مختلف ادویات استعمال کر رہی ہے۔

اس کی حالت یہ ہے کہ وہ پیشاب اور پاخانے پر مکمل اختیار نہیں رکھتی، اس لیے ہمیں دن میں تقریباً دو مرتبہ اس کا پمپر تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ یہ ذمہ داری میں اور میری اہلیہ دونوں مل کر ادا کرتے ہیں، لیکن اکثر اوقات یہ کام میں ہی کرتا ہوں، کیونکہ:
• میری اہلیہ بھی ملازمت پیشہ ہیں
• میری بیٹی جسمانی طور پر بہت بھاری ہے
• میری اہلیہ اکیلے اسے اٹھانے یا کروٹ دینے سے قاصر ہیں
• ایسا کرنے سے ان کی کمر، کندھوں اور پٹھوں میں شدید درد اور کھچاؤ ہو جاتا ہے

ہم اس وقت برطانیہ (UK) میں مقیم ہیں اور فی الحال ہمیں حکومت کی طرف سے کوئی مستقل مدد میسر نہیں ہے، اس لیے ہم اپنی بیٹی کی مکمل دیکھ بھال خود ہی کر رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ میں خود اپنی بیٹی کو غسل بھی دیتا ہوں۔ چونکہ وہ گھر کے نچلے حصے (Downstairs) میں رہتی ہے اور ہمارے پاس صرف ایک ہی باتھ روم/ٹوائلٹ ہے، اس لیے مجھے ہی اسے وہاں لے جانا پڑتا ہے۔ بعض اوقات میں اسے غسل دیتا ہوں اور بعض اوقات میری اہلیہ دیتی ہیں، حالات کے مطابق۔

اب چونکہ میری بیٹی 10 سے 12 سال کی عمر میں داخل ہو چکی ہے، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ:

کیا ایسی شدید مجبوری اور دیکھ بھال کی حالت میں والد کے لیے بیٹی کا پمپر تبدیل کرنا اور اسے غسل دینا شرعاً جائز ہے؟
اور اگر شریعت کی رو سے کوئی خاص حدود، پردے یا احتیاطی تدابیر ہیں جن پر عمل ضروری ہو تو براہِ کرم تفصیل سے رہنمائی فرما دیں۔

ہم یہ سب کام صرف مجبوری، علاج اور دیکھ بھال کے طور پر، اللہ تعالیٰ کے خوف اور شریعت کی پابندی کے ساتھ انجام دینا چاہتے ہیں، اس لیے آپ کی شرعی رہنمائی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
آپ کے جواب کے منتظر رہیں گے۔

والسلام

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر سائل کی مذکور معذور بیٹی بارہ سال کی عمر کو پہنچ چکی ہو ،تو سائل کے لئے اس کے پیمپر تبدیل کرنے یا اسے نہلانے و غیرہ کے ان تمام امور جس میں اس کے جسم کو بلا حائل چھونے یا ستر کھل جانے کی نوبت آتی ہو سےاجتناب لازم ہےاس طرح کے تمام امور سائل کی بیوی کو سر انجام دینا چاہئے ،اور اگر کسی عذر کی وجہ سے سائل کی اہلیہ کیلئے ان امور کی انجام دہی ممکن نہ ہو تو اس کیلئے کسی دوسری خاتون کاانتظام لازم ہے،البتہ سائل بیٹی کو اٹھانے ،پہنانے میں معاونت کرسکتا ہے،لیکن ایسی صورت میں بھی حتی المقدور بچی کے ستر پر نظر پڑنے سے احتیاط لازم ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الکنز الدقائق:فصل في النظر والمس لا ينظر إلى غير وجه الحرة وكفيهاولا ينظر من اشتهى إلى وجهها إلا الحاكم والشاهدوينظر الطبيب إلى موضع مرضهاوينظر الرجل إلى الرجل إلا العورةوالمرأة للمرأة والرجل كالرجل للرجلوينظر الرجل إلى فرج أمته وزوجتهووجه محرمه ورأسها وصدرها وساقيها، وعضديهالا إلى ظهرها وبطنها، وفخذهاويمس ما حل النظر إليه اھ(کتاب الکرہیۃ،ص:609،ط:دار البشائر الإسلامية)
و فی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي:قال - رحمه الله -: (ويمس ما حل النظر إليه) أي من محارمه أو من الرجل لا من الأجنبية لتحقق الحاجة إلى ذلك في المسافرة والمخالطة «، وكان - عليه الصلاة والسلام - يقبل رأس فاطمة، ويقول أجد منها ريح الجنة»، وكان إذا قدم من سفر بدأ بها فقبلها وعانقها، وقال من قبل رجل أمه فكأنما قبل عتبة الجنة، ولا بأس بالخلوة معها لقوله - صلى الله عليه وسلم - «لا يخلون رجل بامرأة ليس منها بسبيل فإن ثالثهما الشيطان»، والمراد إذا لم تكن محرما؛ لأن المحرم بسبيل منها إلا إذا خاف عليها أو على نفسه الشهوة فحينئذ لا يمسها، ولا ينظر إليها، ولا يخلو بها لقوله - عليه الصلاة والسلام - «العينان تزنيان وزناهما النظر واليدان تزنيان وزناهما البطش والرجلان تزنيان وزناهما المشي والفرج يصدق ذلك كله أو يكذبه» فكان في كل واحد منها نوع زنا.اھ(فصل في النظر والمس،ج:6،ص:19،ط:المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90496کی تصدیق کریں
0     31
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات