گناہ و ناجائز

جنابت کی حالت میں نماز اور قرآن پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
90485
| تاریخ :
2026-01-01
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جنابت کی حالت میں نماز اور قرآن پڑھنے کا حکم

اسلام علیکم ،
جناب! میں نے بہت بڑا گناہ کیا ہے سکول کے ٹائم میں میں نے جنابت کی حالت میں نماز اور قرآن پڑھا ہے بہت زیادہ شرمندہ ہوں اور اللہ سے ہر وقت توبہ بھی مانگتا ہوں، کیا اللہ مجھے معاف کرلےگا ؟ کیا میں اسلام میں دوبارہ داخل ہوسکتا ہوں ؟ بہت پریشان ہوں ، رہنمائی فرمائیں

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسؤلہ میں سائل کا عمل واقعی انتہائی سنگین اور نامناسب ہے ،جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوا ہے ،تاہم اگر اس نے یہ عمل احکام شرعیہ سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے کیا ہو ،اور نماز و قرآن کا استہزاء وغیرہ مقصود نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل دائرہ اسلام سے خارج نہیں ہوا ،تاہم آئندہ اس طرح کی حرکت سے اسے بہر صورت احتراز لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر : وأما فاقد الطهورين، ففي الفيض وغيره أنه يتشبه عندهما، وإليه صح رجوع الامام، وعليه الفتوى.
قلت: وبه ظهر أن تعمد الصلاة بلا طهر غير مكفر كصلاته لغير القبلة أو مع ثوب نجس، وهو ظاهر المذهب، كما في الخانية.
(قوله: كما في الخانية) حيث قال بعد ذكره الخلاف في مسألة الصلاة بلا طهارة: وأن الإكفار رواية النوادر. وفي ظاهر الرواية: لايكون كفراً، وإنما اختلفوا إذا صلى لا على وجه الاستخفاف بالدين، فإن كان وجه الاستخفاف ينبغي أن يكون كفراً عند الكل. اهـ.
أقول: وهذا مؤيد لما بحثه في الحلية لكن بعد اعتبار كونه مستخفا ومستهينا بالدين كما علمت من كلام الخانية، وهو بمعنى الاستهزاء والسخرية به، أما لو كان بمعنى عد ذلك الفعل خفيفا وهينا من غير استهزاء ولا سخرية، بل لمجرد الكسل أو الجهل فينبغي أن لايكون كفرا عند الكل، تأمل،

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90485کی تصدیق کریں
0     223
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات