السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،محترم مفتی صاحب!امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کی خدمت میں ملازمت (جاب) اور معاہدے (ایگریمنٹ) سے متعلق ایک شرعی رہنمائی چاہتا ہوں، براہِ کرم اس مسئلے پر تفصیل سے رہنمائی فرما دیں، ایک شخص نے ایک ادارے/یونیورسٹی کے ساتھ تین سال کے لیے تحریری ملازمت کا معاہدہ کیا، جس میں اس کی ذمہ داریاں ریسرچ اور تدریس تھیں، تاہم معاہدے میں کسی مخصوص ڈیزگنیشن (عہدے) کا ذکر نہیں تھا، اس شخص نے معاہدہ مکمل پڑھ کر، سمجھ کر دستخط کیے اور خود کو تین سال کے لیے اس ادارے کے ساتھ منسلک (باؤنڈ) کر لیا، اس کی ماہانہ تنخواہ تقریباً 10,000 آر ایم بی (چینی کرنسی) تھی،بعد ازاں ایک دوست نے اسے کسی دوسری جگہ بہتر ملازمت کے بارے میں بتایا۔ اس موقع پر اس شخص نے نہ تو اپنے دوست کو اور نہ ہی نئی جگہ پر یہ حقیقت واضح طور پر بتائی کہ وہ پہلے سے ایک تین سالہ معاہدے میں بندھا ہوا ہے، بلکہ اس نے صرف یہ کہا کہ وہ ایک عارضی نوعیت کی ملازمت کر رہا ہے اور کسی لیب کے ساتھ منسلک ہے، حالانکہ حقیقت میں اس کا باقاعدہ معاہدہ ایک یونیورسٹی کے ساتھ تھا،بعد میں اس شخص کو دوسری جگہ ایک نسبتاً بہتر ملازمت مل گئی، جہاں اسے اسوسی ایٹ پروفیسر کی ڈیزگنیشن دی گئی، تاہم نئی یونیورسٹی کے سامنے بھی اس نے یہ بات ظاہر نہیں کی کہ وہ پہلے سے ایک اور ادارے کے ساتھ معاہدے میں ہے، بلکہ صرف یہ ظاہر کیا کہ وہ ملازمت کی تلاش میں ہے،محترم مفتی صاحب! میرا پہلا سوال یہ ہے کہ،کیا اس شخص کا نئی ملازمت حاصل کرنے کے لیے اپنی سابقہ ملازمت اور معاہدے کو چھپانا یا مبہم انداز میں بیان کرنا شرعاً جھوٹ یا دھوکے کے زمرے میں آتا ہے؟کیا اس بنیاد پر حاصل کی گئی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کوئی شرعی وبال آئے گا یا نہیں؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ جب اس شخص نے نئی ملازمت جوائن کی، تو اس وقت اس کی پرانی ملازمت کا معاہدہ بدستور قائم تھا، بعد میں اس نے خاموشی سے پرانا معاہدہ توڑ دیا، حالانکہ اس نے وہ معاہدہ پڑھ کر اور سمجھ کر دستخط کیا تھا،کیا اب مختلف حیلے اور تاویلات بنا کر اس معاہدے کو ختم کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟تیسرا سوال یہ ہے کہ:اس شخص نے نہ صرف اپنے دوست کے سامنے غلط بیانی سے کام لیا، بلکہ نئی یونیورسٹی کے ساتھ بھی مکمل سچائی بیان نہیں کی،کیا اس طرح ایک جگہ سے غلط بیانی کے ذریعے نکل کر دوسری جگہ ملازمت اختیار کرنا اسلام کی نظر میں درست ہے؟مزید یہ کہ:وہ شخص اپنے عمل کے جواز میں بعض تاریخی واقعات، مثلاً صلح حدیبیہ کا حوالہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہاں بھی ایک شرط بعد میں منسوخ ہوئی تھی، اس لیے اس کا معاہدہ توڑنا درست ہے، حالانکہ اس نے معاہدہ کرتے وقت تمام شرائط قبول کی تھیں، اور ڈیزگنیشن نہ ہونے کے باوجود معاہدے پر دستخط کیے تھے،کیا اس قسم کی تاویل شرعاً درست ہے؟محترم مفتی صاحب!براہِ کرم ہمیں یہ بھی رہنمائی فرمائیں کہ:اسلام میں ملازمت کے معاہدات کی شرعی حیثیت کیا ہے؟مستقبل میں ہمیں کس طرح کے معاہدے کرنے چاہئیں؟ملازمت اختیار کرتے وقت کن شرعی اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے؟ہم چاہتے ہیں کہ ہماری کمائی حلال ہو، ہم اپنے اہلِ خانہ اور بچوں کو حرام مال نہ کھلائیں، اور ہمارا پیشہ ورانہ اور دینی پہلو دونوں اعتبار سے درست ہو،براہِ کرم اس بارے میں تفصیلی اور واضح شرعی رہنمائی عطا فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً کثیراً
شریعتِ مطہرہ میں معاہدوں کی پاسداری واجب اور وعدہ خلافی ممنوع ہے، چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ( أوفوا بالعقود) (معاہدوں کو پورا کرو) لہذا جب کوئی شخص کسی ادارے کے ساتھ مدت معین کے لیے ملازمت کا معاہدہ کر لے تو بلا عذر اسے توڑنا اور حقیقت کو چھپا کر دوسری ملازمت اختیار کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ یہ امانت ودیانت کے خلاف اور دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
البتہ اگر نئی ملازمت کا کام فی نفسہ جائز ہے تو اس کی تنخواہ کو حرام نہیں کہا جائے گا، مگر معاہدہ شکنی اور غلط بیانی کا گناہ باقی رہے گا، جس پر توبہ و استغفار اور حتی المقدور سابقہ ادارے سے معاملات درست کرنا ضروری ہے، پرانے معاہدے سے نکلنے کی درست صورت یہ ہے کہ ادارے کو اطلاع دے کر اس کی رضامندی حاصل کی جائے، یا معاہدے کے طے شدہ شرائط کے مطابق علیحدگی اختیار کی جائے۔
جبکہ مذکور شخص کا صلح حدیبیہ کو اپنے عمل کے جواز کے طور پر پیش کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ وہ ایک اجتماعی نوعیت کا معاہدہ تھا ،جس میں بعد کی تبدیلیاں باقاعدہ معاہدے میں فریقین کی رضامندی سے وجود میں آئی تھیں، اس لیے اسے انفرادی ملازمت کے معاہدے پر قیاس کرنا محل نظر ہے، جس سے احتراز چاہیئے۔
قال اللہ تعالی: يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ ۚ اُحِلَّتْ لَكُمْ بَـهِيْمَةُ الْاَنْعَامِ اِلَّا مَا يُتْلٰى عَلَيْكُمْ غَيْـرَ مُحِـلِّى الصَّيْدِ وَاَنْتُـمْ حُرُمٌ ۗ اِنَّ اللّـٰهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيْدُ الآیۃ(المائدہ۔آیۃ 1 )
وفی الجامع بین الصحیحین: عن ابی ھریرۃ عن النبیﷺقال:آیۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب واذا وعد اخلف واذا ائتمن خان الخ (باب ۔المنافقون و صفاتھم۔ ج 1 ص 72)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عن عمرو بن عوف المزني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:"الصلح جائزبين المسلمين إلا صلحا حرم حلالا أو أحل حراما والمسلمون على شروطهم إلا شرطا حرم حلالا أو أحل حراما" . رواه الترمذي وابن ماجه وأبو داود وانتهت روايته عند قوله شروطهم، (كتاب البيوع، باب الإفلاس والإنظار، الفصل الثاني، ص:253،ط:قديمي)۔