گناہ و ناجائز

ذکری لوگوں کی دعوت میں جانے کا حکم

فتوی نمبر :
90358
| تاریخ :
2025-12-29
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ذکری لوگوں کی دعوت میں جانے کا حکم

محترم مفتی صاحب!
میرا نام حافظ سمیر احمد ہے، میں صوبہ بلوچستان کے ایک ایسے علاقے میں رہتا ہوں جہاں اہلِ سنت مسلمان بھی ہیں اور ذکری بھی (جو خود کو مسلمان کہتے ہیں)۔ بعض اوقات سماجی تعلقات کی بنا پر ہمیں ذکریوں کے ہاں دعوت میں جانا پڑتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
اگر ذکری شخص خود کو مسلمان کہتا ہو، اللہ اور رسول ﷺ کا منکر نہ ہو، اور جانور اللہ کا نام لے کر ذبح کرے، تو کیا اس کا ذبیحہ شرعاً حلال ہے یا نہیں؟
اور اگر ذبح کے وقت غیر اللہ (مثلاً کسی بزرگ، مقام یا مزار) کا نام لیا جائے، تو اس ذبیحہ کا کیا حکم ہوگا؟
اگر عام آدمی کو ذبح کرنے والے کے عقائد کی پوری تفصیل معلوم نہ ہو، تو ایسی دعوت میں گوشت کھانے کے بارے میں احتیاطاً کیا طرزِ عمل اختیار کرنا چاہیے؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ذکری فرقہ چونکہ عقائد اسلامیہ جیسے ختم نبوت وغیرہ ،فرائض اسلامیہ یعنی نماز، روزہ، حج کے انکار کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہے ،لہذا یہ لوگ چاہے جانور پر اللہ کانام لیں یا کسی بزرگ وغیرہ کا، دونو ں صورتوں میں انکا ذبیحہ شرعا حرام ہے،اس طرح ان کے ساتھ مسلمانوں جیسے دوستانہ تعلقات رکھنا بھی شرعا جائز نہیں ،جبکہ عام آدمی کو ذکریوں کے عقائد معلوم نہ ہو نے سے بھی ان کے ذبیحہ کے شرعی حکم پر کوئی فرق نہیں پڑیگا ، لہذا بہر صورت ان کے ذبیحہ کے استعمال سے احتراز لازم ہے

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مجمع الانھر: وفي البزازية ‌يجب ‌الإيمان ‌بالأنبياء بعد معرفة معنى النبي وهو المخبر عن الله تعالى بأوامره ونواهيه وتصديقه بكل ما أخبر عن الله تعالى وأما الإيمان بسيدنا محمد عليه الصلاة والسلام فيجب بأنه رسولنا في الحال وخاتم الأنبياء والرسل فإذا آمن بأنه رسول ولم يؤمن بأنه خاتم الأنبياء لا يكون مؤمنا الخ(کتاب السیر،باب المرتد،ج1،ص691،ط:دار احیاء التراث العربی)۔
وفی الھندیۃ: إذا أنكر الرجل آية من القرآن، أو تسخر بآية من القرآن وفي الخزانة، أو عاب كفر الخ(کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین، ج2، ص266، ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا ایضا: وإن أنكر فرضية الركوع والسجود مطلقا يكفر حتى إذا أنكر فرضية السجدة الثانية يكفر أيضا لرده الإجماع والتواتر الخ(کتاب السیر،الباب التاسع فی احکام المرتدین،ج2،ص269،ط: ماجدیۃ)۔
وفی الشامیۃ تحت: (مطلب حكم الدروز والتيامنة والنصيرية والإسماعيلية)(الی قولہ) ويجحدون الحشر والصوم والصلاة والحج، ويقولون المسمى به غير المعنى المراد ويتكلمون في جناب نبينا صلى الله عليه وسلم كلمات فظيعة. (الی قولہ) ونقل عن علماء المذاهب الأربعة أنه لا يحل إقرارهم في ديار الإسلام بجزية ولا غيرها، ولا تحل مناكحتهم ولا ذبائحهم، وفيهم فتوى في الخيرية أيضا فراجعها. (کتاب الجھاد، ،ج4،ص244،ط: ایچ ایم سعید)۔
(ومنها) أن يكون مسلما أو كتابيا فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمجوسي والوثني وذبيحة المرتد أما ذبيحة أهل الشرك فلقوله تعالى {وما أهل لغير الله} [المائدة: 3] وقوله عز وجل {وما ذبح على النصب} [المائدة: 3] أي للنصب وهي الأصنام التي يعبدونها.(کتاب الذبائح،ج:5،ص:45، ط :سعید

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90358کی تصدیق کریں
0     223
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات