کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ: کچھ گھریلو وجوہات کی وجہ سے میرے گھر والوں نے میرے شوہر کے خلاف خلع کا کیس کیا ، اگر چہ میں نہیں چاہتی تھی کہ: ہمارا گھر خراب ہو ، لیکن حالات ایسے بنے کہ: میں نے بھی خلع کے کاغذات پر دستخط کردئیے ، اور میرے شوہر چونکہ بیرون ملک میں تھے ، تو اس نے اپنے بھائی کو مختار بنایا تھا ، اور اس کے بھائی نے میرے شوہر کی اجازت سے خلع کے کاغذات پر دستخط کردئیے ، تو اب معلوم کرنا ہے کہ: اس خلع سے ہمارا نکاح ختم ہوچکا یا برقرار ہے؟ اور اگر ختم ہوا ہے اور ہم اپنا گھر بنانا چاہیں تو اسکا کیا حکم ہے اور کیا طریقہ ہے ؟جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کے لیے فریقین کی رضامندی ضروری ہے اور اگر فریقین نے خود یا ان کی اجازت سے ان کے وکیل نے خلع کے کاغذات پر برضامندی دستخط کردئیے، تو ایسا خلع شرعا معتبر ہوتا ہے، جس کے بعد عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے ۔
لہذا صورت مسئولہ میں مذکور خلع کے کاغذات پر سائلہ کے شوہر کی جانب سے اس کے بھائی نے اس کا وکیل بن کر دستخط کرکے رضا مندی کا اظہار کر لیا ہو ، (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ) تو یہ خلع شرعا بھی معتبر ہوکر اس کی وجہ سے سائلہ پر ایک طلاق بائن واقع ہو کر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،البتہ اگر اب یہ دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں، اور شوہر نے اس خلع سے قبل یا بعد میں اسے مزید کوئی طلاق نہ دی ہو، تو اس کے لیے باضابطہ گواہوں کی موجود گی میں ،نئے حق مہر کے ساتھ ،دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا تاہم دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں آئندہ کے لیے شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لیے طلاق کے معاملے میں خوب احتیاط کی جائے۔
کما في احكام القرأن للجصاص: (قال اصحابنا لايجوز خلعها الا برضى الزوجين فقال اصحابنا ليس للحكمين ان يفرقا الا برضا الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك (ج:٣ ، ص: ٤٥٣، مط: ادارة القران )
وفي الدرالمختار: ( و ) حكمه أن ( الواقع به ) ولو بلا مال ( وبالطلاق ) الصريح ( على مال طلاق بائن )اھ (باب الخلع،ج:٣،ص: ٤٤٤،مط:سعيد)
وفي بحر الرائق: ( الواقع به وبالطلاق على مال طلاق بائن ) أي بالخلع الشرعي أما الخلع فلقوله( فقوله ) عليه الصلاة والسلام الخلع تطليقة بائنة ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات والواقع بالكناية بائن اھ (باب الخلع، ج:٤،ص: ٧٧،مط: دار الكتب )
وفي البدائع: فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر لأن ما دون الثلاثة وإن كان بائنا فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية اھ (فصل في حكم الطلاق البائن ،ج:٣،ص: ١٨٧،مط: سعيد)