میرا سوال ہے کا میری بیوی اور میرے درمیان اختلاف ہوا وہ اپنے گھر جا رہی تھی اس نے جاتے ہوئے اپنے بیگ میں گھر کی سب سے قیمتی چیز رکھ لی وہ گھر سے وہ بیگ لے جا رہے تھے کہ میں نے کہا مجھے دکھا ؤ بیگ ، جب بیگ کھولا تو اس میں سے وہ قیمتی چیز
نکل آئی۔ میں ے اس سے کہا کہ یہ چوری ہے۔ اس کی کوئی سزا تم کو ملے یا نہ ملے مگر یہ ہے چوری ،مگر میری بیوی کہتی ہے کہ میری نیت چوری کی نہیں تھی میری نیت اس قیمتی چیز کو واپس کرنے کی تھی ۔میں نے یہ کام آپ کو پریشان کرنے کے لئے کیا تھا اس لئے یہ چوری نہیں۔ اب آپ بتائیں اسلام کے اصول کی روہ سے یہ چوری ہے کہ نہیں۔
صورت مسؤلہ میں سائل کی بیوی کا مذکور عمل اگر چہ نا جائز ، گناہ اور خیانت کے زمرے میں آتا ہے ،تا ہم شرعا یہ چوری کے حکم میں داخل نہیں ، کیونکہ چوری کا اطلاق اس مال پر کیا جاتا ہے جو کسی حفاظت والی جگہ سے نا جائز طور پر چھپاکر نکا لاجائے ،اور چونکہ بیوی اور شوہر ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ،اور گھر کی اشیاء پر عرفا بیوی کورسائی حاصل ہوتی ہے ،اس لئے اس مال پر مال محرز کا اطلاق نہیں ہوتا ،جو کسی مال پر چوری کا حکم لگانے کیلئے لازم اور ضروری ہے،تا ہم سائل کی بیوی کے سائل کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں تصرف کرنے پر اس سے معافی مانگنا اور آئندہ کیلئے اس قسم کی حرکت سے احتراز کرنا واجب ہے۔
کما فی الدر: (وَ) لَا بِسَرِقَةٍ (مِنْ زَوْجَتِهِ) وَإِنْ تَزَوَّجَهَا بَعْدَ الْقَضَاءِ جَوْهَرَةٌ (وَزَوْجِهَا وَلَوْ كَانَ) الْمَسْرُوقُ (مِنْ حِرْزٍ خَاصٍّ لَهُ،(کتاب السرقہ،ج:4 ،ص:97 ،ط:سعید)
وفی احکام القران للجصاص : وَنَظِيرُ مَا اقْتَضَتْهُ الْآيَةُ مِنْ النَّهْيِ عَنْ أَكْلِ مَالِ الْغَيْرِ قَوْله تَعَالَى: {وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ} [البقرة: 188] ، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم: "لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إلَّا بِطِيبَةٍ مِنْ نَفْسِهِ".(ج:2 ،ص:216، ط:دارالکتب العلمیہ )