پراویڈنٹ فنڈ استعمال کرنے میں علماء کیا فرماتے ہیں، اس سود کے متعلق جو ملازم کو ملتی ہے اس کے ریٹائرمنٹ کے بعد جو ملازم نے اپنے پیسوں میں سے لگائے ہوتے ہیں اور پھر مالک اس میں سے آخر میں کچھ دیتا ہے۔ برائے مہربانی مجھے اس کا حل بتائیں۔
جبری پڑا ویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو کٹوتی ہوتی ہے اور پھر اس پر کمپنی کی طرف سے جو سود ملتا ہے وہ شرعاً سود نہیں ہے ملازم کے لئے اس کا لینا درست ہے، البتہ اگر اس فنڈ اسکیم میں شمولیت ملازم کے اختیار میں ہو تو اس صورت میں اپنے تنخواہ سے کٹوتی شدہ رقم کے علاوہ مزید رقم کا ملازم کے لئے لینا درست نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔