گناہ و ناجائز

سالی سے غلط تعلقات قائم کرکے گھر رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
90230
| تاریخ :
0000-00-00
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سالی سے غلط تعلقات قائم کرکے گھر رکھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ہمارے گھر میں کل گیارہ افراد رہتے ہیں ،اس کے علاوہ میری خالہ بھی رہتی ہیں، چند سال پہلے میری خالہ کی شادی ہوئی اور چند ماہ بعد ہی طلاق ہو گئی، پھر ان کو ٹی بی کا مرض لاحق ہو گیا اور وہ علاج کی غرض سے ہمارے گھر آگئی، اور تقریباً ایک سال سے زائد عرصہ ہمارے گھر رہی اور جب ان کا علاج مکمل ہو گیا تو اپنے گھر چلی گئی، لیکن پھر چند دن ہی میں ہمارے گھر واپس آگئی اور مستقل ہمارے گھر رہنے لگی اور وہ مہینہ میں صرف 6/5 دن اپنے گھر رہتی ہیں، اب ان کا ہمارے گھر اس طرح مستقل رہنے کی وجہ سے گھر کا ماحول بہت زیادہ خراب ہوتا جا رہا ہے، وجہ یہ ہے کہ ہمارے والد کے اکثر خاندان والوں نے ان کی وجہ سے قطع تعلقی کرلی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس عورت نےتعویذات کے ذریعے ہم کواکثر جانی نقصان پہنچانے کے لیے حملے کیے اور محلے کے کافی لوگ متعدد بار ہمیں کہہ چکے ہیں کہ تمھارے والد کا تمھاری خالہ کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں، جب ہم نے والد سے اس کا تذکرہ کیا تو غصہ میں کہنے لگے، ہاں ہیں جس کو جو کرنا ہے کرے، جبکہ عورت قرآن اُٹھاکر کہتی ہے کہ " میں تو ان کو والد کی طرح سمجھتی ہوں"۔ اور حال یہ ہے کہ میرے والد صاحب اکثر ان سے اپنی خدمت کرواتے ہیں کبھی ٹانگیں دبوانا، سر میں تیل لگوانا ، کھانا منگوانا ،کپڑے استری کروانا و غیره۔
ہم نے جب یہ بات والدہ سے کہا تو وہ کہتی ہیں کہ مجھ سے اپنے گھر کا کام نہیں ہوتا لہذا یہ میرا ہاتھ بٹاتی ہے اور کہتی ہیں کہ اگر تمہیں یہ پسند ہیں تو صحیح ورنہ تم لوگ گھر سے نکل جاؤ، جبکہ حال یہ ہے کہ میری دو بہنیں ہیں، جو گھر کے کام کاج کے لیے کافی ہیں، اب میرے چچا اور پھوپھی نے والد صاحب سے یہ مطالبہ کیا کہ اس عورت کو شرافت کے ساتھ اپنے گھر جانے دو، تاکہ خاندان کی بے عزتی نہ ہو اور اس کی وجہ سے گھر میں موجود بچوں پر برے اثرات بھی نہ پڑے اس لئے کہ والد ووالدہ دونوں نے اپنے بچوں کو چھوڑ کر محض اس عورت کو ترجیح دے دی ہے اور ہم سب اپنے والدین کے اس رویے سے بہت پریشان ہیں، برائے مہربانی آپ سے گزارش ہے کہ شریعت کی روشنی میں ہمارے لئے کوئی مناسب حل نکال کر مشکور ہوں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو سائل کے والد اپنی سالی سے اس طرح کے تعلقات اور خدمت لینے کی وجہ سے مسلسل گناہگار ہورہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس طرز عمل سے احتراز کرتے ہوئے سالی کو فوری طور پر اپنے گھر سے بے دخل کریں اور اسے اپنے والدین اور بھائیوں کے گھر بھیج دیں، اسی طرح سائل کی والدہ پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھے،محض شوہر کی خوشنودی کے لیے اپنی اور شوہر کی آخرت برباد نہ کرے اور مذکور اس ناجائز عمل کو فوری طور پر اپنے گھر سے ختم کرنے کی فکر کرے، ورنہ ان کے بچے اور دیگر عزیز رشتہ دار اس وقت تک ان سے قطع تعلق ہو سکتے ہیں، جب تک وہ اس گناہ والی زندگی سے احتراز کر کے مذکورہ خاتون کو گھر سے بے دخل نہ کر دیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في مشكاة المصابيح: وعن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يخلون رجل بامرأة إلا كان ثالثهما الشيطان» . رواه الترمذي اھ (2/ 935)
و في الترغيب والترهيب لقوام السنة: عن جابر -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((بروا آباءكم تبركم أبناؤكم، وعفوا تعف نساؤكم، ومن تنصل إليه فلم يقبل، لم يرد على الحوض يوم القيامة)) . (1/ 282)
و في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: قال الخطابي: رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته، ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى، فيجوز فوق ذلك اھ (8/ 3146)
و في الدر المختار: ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا اھ (6/ 369) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
کفایت اللہ ہاشم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90230کی تصدیق کریں
0     17
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات