السلام علیکم
میری شادی کو ایک سال ہو گیا ہے اور میری ایک بیٹی ہے جو چار ماہ کی ہے، مجھے نہ اپنے شوہر (زید) سے کوئی مسئلہ ہے اور نہ اپنے ساس سسر سے، مجھے صرف ایک اختلاف ہے، خاص طور پر اپنے شوہر سے اور اس کے بعد اپنے ساس سسر سے، اور وہ اختلاف میرے شوہر کی بھابھی ہے جو ہمارے ساتھ رہتی ہے، اس کا شوہر یوکے میں ہوتا ہے۔
اختلاف یہ ہے کہ میرا شوہر اپنی بھابھی کی جی حضوری کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور کبھی اس کی کسی بات پر انکار نہیں کرتا، ہمیں کہیں جانا ہو تو بھابھی بھی ساتھ چلتی ہے اور اگر ہم اکیلے چلے بھی جائیں تو پھر ایک دن بعد بھابھی کو بھی لے جانا ہوتا ہے کیونکہ میرے شوہر کے مطابق صرف ایک ہی بھائی ہے اور بھائی مجھ سے جدا ہو جائے گا، اس لیے میں بھابھی کا خیال کرتا ہوں، ورنہ وہ اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ زید مجھے ٹائم نہیں دیتا، زید مصروف ہوتا ہے، اور پھر میرا شوہر ایسے فیل کرتا ہے جیسے اس کا ایک بھائی ہے اور وہ رشتہ بھی ختم ہو جائے گا، پھر ماں باپ کے بعد کون بچے گا میرے شوہر کے پاس۔
مختصر یہ کہ میرے ساس سسر بھی میرے شوہر پر پریشر ڈالتے ہیں کہ بھابھی کا خیال رکھا کرو، مثال کے طور پر جو چیز بیوی کے لیے لاؤ یا کھلاؤ وہ بھابھی کے لیے بھی لاؤ، کہیں بیوی کو لے کر جاؤ تو بھابھی کو بھی پوچھو، جو چیز اپنی بچی کے لیے لاؤ وہ بھابھی کے بچے کے لیے بھی لاؤ، اور اگر میرا شوہر ایسا نہ کرے تو میرے ساس سسر میرے شوہر کو اس طرح ٹریٹ کرتے ہیں جیسے وہ خارجی یا جہنمی ہو، اور وہ غصہ اور فرسٹریشن مجھے بھگتنی ہوتی ہے، تو اگر ہم کہیں خوش وقت گزار کر بھی آجائیں تو بھابھی کی وجہ سے ساری خوشی پانی میں مل جاتی ہے کیونکہ منہ بنے ہوتے ہیں۔
اس طرح مجھے پرسنلی ایسا فیل ہوتا ہے کہ میرے شوہر کی وہ دوسری بیوی ہے کیونکہ ٹریٹ اس کو ایسا کیا جاتا ہے، جواز یہ دے کر کہ میرا بھائی یہاں نہیں ہے، وہ ہمارے ساتھ ہے تو میری ذمہ داری ہے اور میں بھائی کی خاطر کرتا ہوں سب،اور بھابھی بھی اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ زید ٹائم نہیں دیتا نہ مجھے نہ میرے بچے کو، تو جب میرے شوہر کے بھائی میرے شوہر کو کہتے ہیں کہ تم ٹائم نہیں دیتے تو پھر میرا شوہر گلٹ فیل کرتا ہے، اداس ہو جاتا ہے، پریشان ہو جاتا ہے کہ ایک بھائی ہے، ایک ہی رشتہ ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ یہ سب مجھے برا لگتا ہے، لڑائی ہوتی ہے تو کیا میں غلط ہوں؟ کیا مجھے برا نہیں لگنا چاہیے؟ کیا میں اپنے شوہر کو منع کر کے بھائیوں کو الگ کروا رہی ہوں؟ پلیز مجھے اس چیز کی گائیڈنس دیں قرآن کی روشنی میں کہ اگر میں غلط ہوں تو مجھے کیا کرنا چاہیئے اور کس طرح برداشت کرنا چاہیئے کہ بھابھی میرے شوہر پر حق جتائے اور میرے ساس سسر حق منوائیں اور میں چپ رہوں یا مجھے فرق نہ پڑے ۔ شکریہ
سائلہ کے شوہر کا بھائی جب بیرونِ ملک ہوتا ہے اور دونوں ماں باپ کے ساتھ مشترکہ رہ رہے ہیں تو سائلہ کے شوہر کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کی بیوی اور بچوں کا خیال رکھے اور حدودِ شرعیہ میں رہتے ہوئے ان کی ضروریات پوری کرے، اور سائلہ اس سلسلے میں وسعتِ ظرفی سے کام لینے کی کوشش کرے، البتہ سائلہ کی دیورانی اور اس کے ساس سسر کو بھی چاہیئے کہ اعتدال کے ساتھ باہمی معاملات کو نمٹانے کی کوشش کریں، معمولی بات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہ کیا کریں تاکہ سب کی زندگی آسان اور پرسکون ہو۔
كما في صحيح البخاري:عن عقبة بن عامر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:(إياكم والدخول على النساء). فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: (الحمو الموت).( باب: لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم،ج:،ص:،مط:البشرى)
وفي مرقاة المفاتيح: قال الحمو الموت) أي دخوله كالموت مهلك يعني الفتاة منه أكثر لمساهلة الناس في ذلك وهذا على حد الأسد الموت والسلطان النار أي قربهما كالموت والنار أي فالحذر عنه كما يحذر عن الموت.( باب النظر،ج:،ص:،مط:المكتبة الغفاريه)
وفي رد المحتار:(قوله زائدة) يبعده قوله في القنية رامزا ويجوز الكلام المباح مع امرأة أجنبية اهـ وفي المجتبى رامزا، وفي الحديث دليل على أنه لا بأس بأن يتكلم مع النساء بما لا يحتاج إليه، وليس هذا من الخوض فيما لا يعنيه إنما ذلك في كلام فيه إثم اهـ فالظاهر أنه قول آخر أو محمول على العجوز تأمل، وتقدم في شروط الصلاة أن صوت المرأة عورة على الراجح ومر الكلام فيه فراجعه(فصل في النظر والمس،ج:٦،ص:،مط:سعيد)