گناہ و ناجائز

علم دین سے روکنے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
90102
| تاریخ :
2025-12-17
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

علم دین سے روکنے کی ایک صورت کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماے دین، مفتیانِ شرعہ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید اور بکر جو علم دین سے شغف اور علم و علماء سے محبت رکھتے ہیں انہوں نے یہ سنا کہ ایک بزرگ سنی عالم دین دوسرے شہر میں تشریف لا رہے ہیں زید اور بکر دونوں علم دین کے شوق کے جذبے کے ساتھ ان عالم دین سے ملاقات کے لئے سفر اختیار کرتے ہیں - مصافحہ کے بعد زید عالمِ دین سے عرض کرتے ہیں کہ ہم آپ سے حدیثِ پاک پڑھنا چاہتے ہیں اور اجازت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عالمِ دین خوش اسلوبی سے ملاقات بھی کرتے ہیں اور اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ وہ اجازت دیں گے- وہ عالم دین جب کھانے سے فارغ ہو جاتے ہیں تو زید و بکر ان کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہیں علامہ صاحب بھی خوشی کاُاظہار کرتے ہے اور زید و بکر کی دینی تعلیم کے بارے میں سوال کرتے جس کے جواب میں زید عرض کرتے ہے کہ وہ سنی ادارہ سے درس نظامی پڑھ رہے ہےاور بکرعرض کرتے ہے کہ وہ ایک سنی ادارہ سے درس نظامی مکمل کرچکے ہے - علامہ صاحب خوشی کا اظہار کرتے ہیں- اتنے میں ایک شخص عالم دین اور زید و بکر کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور زید اور بکر کو بڑی بد اخلاقی اور تکبر کے ساتھ جڑکتا ہے اور کہتا ہے کہ تم پروگرام خراب کرنے آگئے ہو- زید اس شخص کو کہتے ہے کہ ہم پروگرام ہرگز خراب نہیں کررہے بلکہ ہم تو صرف علامہ صاحب سے حدیث پاک پڑھنا چاہتے ہیں- وہ شخص یہ سننے کے باوجود بھی زید و بکر اور علامہ صاحب کے درمیان حائل رہتا ہے اور بڑی بد اخلاقی سے جھرکتے ہوئے کہتا ہے کہ تم دونوں یہاں سے دفع ہو جاؤ - زید و بکر اپنی شرافت کی وجہ سے کوئی جوابی عمل نہیں کرتے اور حدیث پاک سننے اور اجازت لینے سے محروم ہوجاتے ہیں- وہاں کچھ اور شخصیات بھی تشریف فرما ہوتی اور وہ بھی اس شخص کی بد اخلاق رویہ سے سرپرا ئیز ہوجاتے ہیں - اس عمل سے زید اور بکر کو شدید دلی رنج پہنچتا ہیں کہ اس شخص نے حدیث پاک سننے سنانے کا لحاذ بھی نہیں رکھا اور اتنے لوگوں کے سامنے اس وجہ سے تذلیل کی وہ حدیث پاک پڑھنا چاہتے تھے- اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہوگا کہ اس نے باوجود سمجھانے کے، کہ ہم صرف حدیثِ پاک پڑھنے اور عالمِ دین سے اجازت لینے آئے ہیں، پھر بھی درمیان میں حائل رہا، بلکہ زید و بکر کی دیگر شخصیات کے سامنے بڑی بد اخلاقی کے ساتھ توہین و تذلیل کی ، جس سے زید و بکر کو شدید دل آزاری پہنچی۔ کیا ایسے شخص پر علمِ دین سے روکنے کی وعید ہوگی؟ کیا وہ سخص علم دین و حدیث سے روکنے کی وجہ سے ظلم کا مرتکب ہوا؟ کیا اس شخص کو شخصیات کے سامنے زید و بکر کی تذلیل کرنے کا عمل حرام کے زمرہ آئے گا یا نہیں؟
اور کیا اس سخص کو دل دکھانے کے سبب زید و بکر سے ان شخصیات کے سامنے معافی مانگنی چاہیے؟ مزید یہ کہ کیا ایسے بد اخلاق شخص کے پیچھے جماعت کی نماز پڑھنا درست ہوگا یا نہیں؟ ترجمة المسألة بالعربیة: ما قولُ علماءِ الدِّين ومفتِي الشَّرع المتين في هذه المسألة: أنَّ زيدًا وبكرًا ممَّن لهما شغفٌ بعلم الدِّين ومحبَّةٌ للعلماء، قد سمعا بقدومِ عالمٍ سنِّيٍّ كبيرٍ إلى مدينةٍ أخرى، فسافرا بقصدِ لقائه طلبًا للعلم. وبعد المصافحة، عرض زيدٌ على العالم أنهما يرغبان في قراءة الحديث الشريف عليه وأخذ الإجازة منه، فأبدى العالمُ سرورَه ووعد بالإجازة.وبعدما فرغ العالم من الطعام، حضر زيد وبكر إليه وأعربا عن رغبتهما مرةً أخرى، فسألهما عن تحصيلهما العلمي، فأخبر زيدٌ أنه يدرس في معهدٍ سنِّيٍّ ضمن منهج الدرس النظامي، وأخبر بكرٌ أنه قد أتمَّ الدرس النظامي في معهدٍ سنِّيٍّ، فسرَّ العالم بذلك.وفي أثناء ذلك، قام شخصٌ فحالَ بين العالم وبين زيدٍ وبكر، وزجرهما بسوء أدبٍ وتكبُّر، وقال: إنكما جئتما لإفساد البرنامج. فأوضحا له أنهما لم يأتيا للإفساد، وإنما لقراءة الحديث الشريف وأخذ الإجازة. ومع ذلك استمرَّ ذلك الشخص في منعهما، وأمرهما بالخروج بفظاظة، فامتثلا ولم يجيبا إساءةً بإساءة، وحُرِما من قراءة الحديث وأخذ الإجازة.وكان في المجلس شخصياتٌ أخرى شهدت ذلك الموقف، وتعجَّبت من سوء أدب ذلك الشخص، وقد تأذَّى زيدٌ وبكر أشدَّ الأذى لما لحقهما من الإهانة أمام الناس، مع أن قصدهما كان طلبَ الحديث الشريف.فما الحكم في حقِّ هذا الشخص الذي حالَ بينهما وبين العالم، ومنعهما من قراءة الحديث، وأساء إليهما علنًا؟وهل يدخل فعله في الوعيد لمن يصدُّ عن علم الدِّين؟وهل يُعدُّ ظالمًا بمنعهما وإهانتهما؟وهل تجب عليه التوبةُ وطلبُ العفو منهما أمام من أساء بحضرته؟وهل تصحُّ الصلاةُ خلفه إن كان معروفًا بسوء الخلق على هذا النحو؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ليُعلَم أنَّ الأحكام في مثل هذه الوقائع تختلف باختلاف الأعراف الجارية وأحوال المجالس، وعليه: فإن السائل لم يذكر سبب منع الرجل زيد و بكر عن قراءة الحديث وأخذ الإجازة عن العالم المذكور في السؤال و لم يذكر السائل كذلك بأن هذا الرجل هل كان ممن يدير الجلسة أو لا، لما أن الفرد الذي يقوم بإدارة الجلسة هو بمزاج الضيف و طبيعته أعرف عن الآخرين، و لما أنه يستولي أمور الجلسة فهو أعرف بإدارة وقت الجلسة و إدارة وقت الضيف أكثر عن الآخرين، فلذا كان الأفضل لزيد و بكر أن يذهبا إلى بلد العالم المذكور في السؤال لقراءة الحديث و أخذ الإجازة بدل أن يستغل هذه الفرصة الضيقة، فلذا في الصورة المسئول عنها يجب على السائل أن يذكر سبب منع الرجل زيد و بكر عن مجالسة العالم بحيث يسأل الرجل عن سبب المنع.
ويؤيد ذلك ما قرره فقهاء الحنفية من اعتبار الأعراف الصحيحة والعمل بها، فقد نصوا على أن «المعروف عرفًا كالمشروط شرطًا» كما في الأشباه والنظائر لابن نجيم، وقال العلامة ابن عابدين في رد المحتار: «الثابت بالعرف كالثابت بالنص»، فإذا كان العرف الجاري في تلك البلاد أو في مجالس العلماء أن القراءة والإجازة تكون بترتيب معين أو بإذن خاص أو عن طريق من يتولى تنظيم المجلس فإن مراعاة هذا العرف معتبرة شرعًا، ولا يعد المنع حينئذ ظلمًا بمجرده حتى تعرف ملابسات الواقعة كاملة.
وكذلك قرر الفقهاء أن «التصرف على الرعية منوط بالمصلحة»، فمن كان قائمًا على إدارة المجلس أو تنظيم لقاء الشيخ فهو أبصر بمصلحة الوقت وبما يناسب حال الضيف وطبيعته وما يترتب على فتح الباب لكل أحد في مثل هذه المجالس، لا سيما مع ضيق الوقت وكثرة الحاضرين، ولذلك لا يمكن الحكم على الواقعة حكمًا جازمًا قبل معرفة سبب المنع وحقيقة صفة الشخص الذي تولى ذلك.

مأخَذُ الفَتوی

في حاشية ابن عابدين: مطلب في التعامل والعرف (قوله: لأن التعامل يترك به القياس) فإن القياس عدم صحة وقف المنقول لأن من شرط الوقف التأبيد، والمنقول لا يدوم والتعامل كما في البحر عن التحرير، هو الأكثر استعمالا وفي شرح البيري عن المبسوط أن الثابت بالعرف كالثابت بالنص اهـ وتمام تحقيق ذلك في رسالتنا المسماة [نشر العرف في بناء بعض الأحكام على العرف] وظاهر ما مر في مسألة البقرة اعتبار العرف الحادث، فلا يلزم كونه من عهد الصحابة، وكذا هو ظاهر ما قدمناه آنفا من زيادة بعض المشايخ أشياء جرى التعامل فيها وعلى هذا فالظاهر اعتبار العرف في الموضع، أو زمان الذي اشتهر فيه دون غيره فوقف الدراهم متعارف في بلاد الروم دون بلادنا وقف الفأس والقدوم كان متعارفا في زمن المتقدمين ولم نسمع به في زماننا فالظاهر أنه لا يصح الآن ولئن وجد نادرا لا يعتبر لما علمت من أن التعامل هو الأكثر استعمالا فتأمل (قوله: لحديث ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن) رواه أحمد في كتاب السنة. ج4، ص364.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سلطان سیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 90102کی تصدیق کریں
0     30
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات