سوال:
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درج ذیل مسئلے کے بارے میں:
ہمارے ہاں بعض تقریبات ایسی ہوتی ہیں جن میں مخلوط نظام ہوتا ہے، یعنی مرد و خواتین ایک ساتھ بیٹھتے ہیں، اور ساتھ ہی ناچ گانا، موسیقی وغیرہ بھی ہوتی ہے۔ ایسی محفلوں میں شرکت کرنے کا کیا شرعی حکم ہے؟
اگر ہم میزبان کو منع کرتے ہیں کہ ہم ایسی مجلس میں نہیں آتے جہاں بے پردگی، مخلوط ماحول اور ناج گانا ہو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم “عورتوں کے لیے الگ پردے کا انتظام کر دیں گے، لیکن مردوں کے لیے مخلوط ماحول ہی رہے گا۔”
لہٰذا سوال یہ ہے کہ:
1. کیا ایسی تقریب میں مردوں کا جانا جائز ہے جبکہ عورتوں کے لیے تو پردے کا الگ انتظام ہو مگر مجموعی ماحول فاسد ہی ہو؟
2. کیا ایسے دعوت دینے والوں کی بات مان کر جانا چاہیے یا معذرت کرنا بہتر ہے؟
3. اگر رشتے داری، خاندان یا مجبوری ہو تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟
براہِ کرم مکمل شرعی رہنمائی فرمادیں۔
واضح ہو کہ دین اسلام میں ایک مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ اس کے غمی و خوشی کے لمحات میں شامل ہونے کو مستحسن قرار دیا گیا ہے، لیکن ایسے مواقع پر شریعت کے بتلائے ہوئے اصولوں کی پاسداری، شریعت کی جانب سے منع کردہ کاموں میں مبتلاء ہونے سے بچنے کو بھی لازم قرار دیا ہے ،اور جو محفل یا تقریب ایسی ہو جو مرد و عورتوں کے اختلاط اور شریعت کے احکام کی خلاف ورزی پر مشتمل ہو تو ایسی تقریبات میں شرکت کرنے سے احتراز لازم ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کو پہلے سے اس بات کا علم ہو کہ اس تقریب میں بے پردگی اور دیگر غیر شرعی امور کا پایا جانا یقینی ہے تو اسے مناسب طریقہ سے اس میں شرکت کرنے سے عذر کرنا چاہئے اورا گر اس کا شرکت نہ کرنا خاندانی تعلقات متاثر ہونے اور قطع رحمی کا سبب بن رہا ہو تو ایسی صورت میں مصلحت کے ساتھ ان مفاسد کو روکنے کی غرض سے بقدر ضرورت شرکت کرنے کی گنجائش ہے، لیکن دل میں ان امور سے نفرت اور بیزاری کے ساتھ ساتھ جلد از جلد وہاں سے نکلنے کا اہتمام لازم ہوگا ۔
كما في الدر المختار : ( دعي إلى وليمة وثمة لعب أو غناء قعد وأكل ) لو المنكر في المنزل فلو على المائدة لا ينبغي أن يقعد بل يخرج معرضا لقوله تعالى { فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين } فإن قدر على المنع فعل وإلا يقدر ( صبر إن لم يكن ممن يقتدى به فإن كان ) مقتدي ( ولم يقدر على المنع خرج ولم يقعد ) لأن فيه شين الدين والمحكي عن الإمام كان قبل أن يصير مقتدى به ( وإن علم أو لا ) باللعب ( لا يحضر أصلا ) سواء كان ممن يقتدى به أو لا لأن حق الدعوة إنما يلزمه بعد الحضور لا قبله ابن كمال اھ
وفي رد المحتار تحت قوله ( دعى إلى وليمة ) هي طعام العرس وقيل الوليمة اسم لكل طعام الى قوله وفي الاختيار وليمة العرس قديمة إن لم يجبها أثم لقوله من لم يجب الدعوة فقد عصى الله ورسوله وفي التاترخانية عن الينابيع لو دعي إلى دعوة فالواجب الإجابة إن لم يكن هناك معصيبة ولا بدعة والامتناع أسلم في زماننا إذا علم يقينا أن لا بدعة ولا معصية قوله ( لا ينبغي أن يقعد ) أي يجب عليه اھ
قال في الاختيار لأن استماع اللهو حرام والإجابة سنة والامتناع عن الحرام أولى
قوله ( صبر ) أي مع الإنكار بقلبه
قال عليه الصلاة والسلام من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان اه أي أضعف أحواله في داته أي إنما يكون ذلك إذا اشتد ضعف الإيمان فلا يجد الناهي أعوانا على إزالة المنكر الى قوله والأوضح ما في التبيين حيث قال لأنه لا يلزمه إجابة الدعوة إذا كان هناك منكر اه (كتاب الحضر و الاباحة ،ج:٦،ص:٣٤٧، مط:سعيد)