گناہ و ناجائز

شریعت میں لغویات سے اعراض کی حد کیا ہے؟

فتوی نمبر :
89910
| تاریخ :
2025-12-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

شریعت میں لغویات سے اعراض کی حد کیا ہے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں چیزوں سے منہ موڑنے کے معاملے میں حد سے زیادہ سختی تو نہیں کر رہا؟ سورۂ مؤمنون کی آیت 3 میں ہے کہ مجھے لغو بات سے اعراض کرنا چاہیے، اور تفسیرِ کبیر میں لکھا ہے کہ “لغو بات” ممنوع یا ناپسندیدہ کلام کو کہتے ہیں۔
مجھے حال ہی میں یہ خیال آیا کہ چونکہ فحش یا ناپسندیدہ اعمال بھی ایک طرح کی ممنوع گفتگو کے ضمن میں آتے ہیں، تو کیا مجھے ہر اُس چیز کو دیکھنے سے بھی بچنا ہوگا جو فحش یا ناپسندیدہ ہو؟
مثال کے طور پر: کسی کا لاٹری کا ٹکٹ خریدنا، کھانا ضائع کرنا، فضول خرچی، دکھاوا کرنا، بدتمیزی کرنا وغیرہ۔
اور کچھ چیزیں صرف برے ارادوں کے نتائج کے طور پر سامنے آتی ہیں، جیسے کسی ویڈیو گیم میں ایک جنسی طور پر نمایاں کردار جو کھلاڑی کو اُکسانے کے ارادے سے بنایا گیا ہو، یا عمومی تصویریں (اُن لوگوں کے نزدیک جو انہیں ناجائز سمجھتے ہیں)۔
ان تمام مثالوں میں میں وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہاں نہ کوئی فتنہ ہے، نہ بےحسی کا خدشہ، نہ کوئی عملی خطرہ۔ میں پچھلے ایک سال سے ہفتے میں دس سے بیس گھنٹے تفاسیر اور احادیث کا مطالعہ کرتا ہوں۔ یہ مسئلہ خالصتاً نظریاتی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ میں “لغو” کی حد آخر کہاں مقرر کروں؟
جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور آیت میں "لغو" سے صرف اقوال مراد نہیں ،بلکہ اعمال و افعال بھی اس کے ضمن مین داخل ہے ،جیسا کہ مفسرین کے اقوال سے بھی واضح ہے،جبکہ ویڈیو گیم وغیرہ میں دکھائی جانے والی فحش تصاویر کو دیکھنا بھی شرعا نا جائز وحرام ہے ،چاہے انہیں دیکھنے میں عملی طور پر گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو یا نہ ہو ،اس طرح عمومی تصاویر بھی ان حضرات کے نزدیک جو کہ ڈیجیٹل تصویر کی حرمت کے قائل ہیں دیکھنا گناہ ہے ،جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تفسیر البغوی : قوله تعالى: وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ قَالَ عَطَاءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عَنِ الشِّرْكِ، وَقَالَ الْحَسَنُ: عَنِ الْمَعَاصِي. وَقَالَ الزَّجَّاجُ: عَنْ كُلِّ باطل ولهو وما لا يحمد مِنَ الْقَوْلِ وَالْفِعْلِ. وَقِيلَ: هُوَ مُعَارَضَةُ الْكَفَّارِ بِالشَّتْمِ وَالسَّبِّ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [الفُرْقَانِ: 72] ، أَيْ: إِذَا سَمِعُوا الْكَلَامَ الْقَبِيحَ أَكْرَمُوا أَنْفُسَهُمْ عَنِ الدُّخُولِ فِيهِ.(ج:3،ص:359،ط:دار احیاءالتراث العربی)
و فی احکام القران لابن الفرس: وقوله تعالى: {والذين هم عن اللغو معرضون} اللغو ما سقط من الكلام وهذا يجمع تجنب جميع ما لا خير فيه.(ج:3،ص 318،ط:دار ابن الحزم بیروت)
و فی تفسیر الرازی : الصِّفَةُ الثَّالِثَةُ: قَوْلُهُ تَعَالَى: وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ وَفِي اللَّغْوِ أَقْوَالٌ: أَحَدُهَا: أَنَّهُ يَدْخُلُ فِيهِ كُلُّ مَا كَانَ حَرَامًا أَوْ مَكْرُوهًا أَوْ كَانَ مُبَاحًا، وَلَكِنْ لَا يَكُونُ بِالْمَرْءِ إِلَيْهِ ضَرُورَةٌ وَحَاجَةٌ وَثَانِيهَا: أَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنْ كُلِّ مَا كَانَ حَرَامًا فَقَطْ، وَهَذَا التَّفْسِيرُ أَخَصُّ مِنَ الْأَوَّلِ وَثَالِثُهَا: أَنَّهُ عِبَارَةٌ عَنِ الْمَعْصِيَةِ فِي الْقَوْلِ وَالْكَلَامِ خَاصَّةً، وَهَذَا أَخَصُّ مِنَ الثَّانِي وَرَابِعُهَا: أَنَّهُ الْمُبَاحُ الَّذِي لَا حَاجَةَ إِلَيْهِ، وَاحْتَجَّ هَذَا الْقَائِلُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: لَا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمانِكُمْ [المائدة: 89] فَكَيْفَ يُحْمَلُ ذَلِكَ عَلَى الْمَعَاصِي الَّتِي لَا بُدَّ فِيهَا مِنَ الْمُؤَاخَذَةِ، وَاحْتَجَّ الْأَوَّلُونَ بِأَنَّ اللَّغْوَ إِنَّمَا سُمِّيَ لَغْوًا بِمَا أَنَّهُ يُلْغَى وَكُلُّ مَا يَقْتَضِي الدِّينُ إِلْغَاءَهُ كَانَ أَوْلَى بِاسْمِ اللَّغْوِ، فَوَجَبَ أَنْ يَكُونَ كُلُّ حَرَامٍ لَغْوًا، ثُمَّ اللَّغْوُ قَدْ يَكُونُ كُفْرًا لِقَوْلِهِ: لَا تَسْمَعُوا لِهذَا الْقُرْآنِ وَالْغَوْا فِيهِ [فُصِّلَتْ: 26] وَقَدْ يَكُونُ كَذِبًا لِقَوْلِهِ: لَا تَسْمَعُ فِيها لاغِيَةً [الْغَاشِيَةِ: 11] وَقَوْلُهُ: لَا يَسْمَعُونَ فِيها لَغْواً وَلا تَأْثِيماً [الْوَاقِعَةِ:
25] ثُمَّ إِنَّهُ سبحانه وتعالى مَدَحَهُمْ بِأَنَّهُمْ يُعْرِضُونَ عَنْ هَذَا اللَّغْوِ وَالْإِعْرَاضُ عَنْهُ، هُوَ بِأَنْ لَا يَفْعَلَهُ وَلَا يَرْضَى بِهِ وَلَا يُخَالِطَ مَنْ يَأْتِيهِ، وَعَلَى هَذَا الوجه قَالَ تَعَالَى: وَإِذا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِراماً [الْفُرْقَانِ: 72] وَاعْلَمْ أَنَّهُ سبحانه وتعالى لَمَّا وَصَفَهُمْ بِالْخُشُوعِ فِي الصَّلَاةِ أَتْبَعَهُ الْوَصْفَ بِالْإِعْرَاضِ عَنِ اللَّغْوِ، لِيَجْمَعَ لَهُمُ الْفِعْلَ وَالتَّرْكَ الشَّاقَّيْنِ على الأنفس الذين هُمَا قَاعِدَتَا بِنَاءِ التَّكْلِيفِ وَهُوَ أَعْلَمُ.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89910کی تصدیق کریں
0     206
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات