گناہ و ناجائز

ٹریول ایجنسی کے کام میں دھوکہ بازی کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
89907
| تاریخ :
2025-12-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ٹریول ایجنسی کے کام میں دھوکہ بازی کی ایک صورت کا حکم

بحیثیت ٹریول ایجنٹ ہم اپنے کسٹمر کو ویزا کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔ کچھ ممالک کے ویزا کے لیے ٹکٹ بکنگ اور ہوٹل بکنگ لازمی ہوتی ہے مگر ویزا پروسس کرتے وقت کسٹمر کے پاس ٹکٹ اور ہوٹل نہیں ہوتا جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ابھی تک پروگرام حتمی طے نہیں ہے کہ کب جانا ہے یا وہاں جا کر کسی کی رہائش گاہ پر ٹھہرنا ہے نہ کہ ہوٹل میں اور ایک اہم وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ خدانخواستہ ویزا ریجیکٹ ہو جانے کی صورت میں ٹکٹ اور ہوٹل بکنگ کینسل کرنے کا جو نقصان ہوتا ہے اس سے بچنا تو کیا ان تمام وجوہات کی وجہ سے نقلی ٹکٹ اور نقلی ہوٹل بکنگ ویزا ایپلیکیشن میں شامل کی جا سکتی ہے اور ہمارے لیے بحیثیت ٹریول ایجنٹ اس کام کو کرنے کی صورت میں حاصل ہونے والے منافع کے بارے میں کیا حکم ہے

اسی سے ملتی جلتی صورت ٹکٹ میں بھی ہوتی ہے کہ بعض دفعہ ایئر لائن والے وزٹ ویزا پر ریٹرن ٹکٹ مانگتے ہیں مگر کسٹمر کا فی الحال واپسی کا پروگرام طے نہیں ہوتا کہ کس تاریخ کو واپس آنا ہے تو کیا اس صورت میں ایئرپورٹ پر دکھانے کے لیے واپسی کا ڈمی ٹکٹ فراہم کیا جا سکتا ہے

جواب عنایت فرما دیں شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کسی بھی ملک کے ویزہ کے حصول کے لیے اسے مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنا قانونا ضروری ہوتا ہے، اور اس قانونی تقاضہ کو پورا کرنے کے لیے غلط بیانی کرکے جعلی ریٹرن ٹکٹ یا ہوٹل بکنگ کے جعلی کاغذات بنانا شرعا جھوٹ و دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے، اس لئے اس سے اجتناب چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح المسلم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة طعام فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: ما هذا يا صاحب الطعام قال: أصابته السماء، يا رسول الله. قال: أفلا جعلته فوق الطعام كي يراه الناس؟ ‌من ‌غش فليس مني ( باب قول النبی ﷺ من غش فلیس منا، ج:1، ص: 69، ط: دار الطباعۃ )
و فی عون المعبود تحت قول النبی ﷺ "ليس منا"، معناه: ليس سيرتنا ومذهبنا، يريد أن ‌من ‌غش أخاه، وترك مناصحته، فإنه قد ترك اتباعي والتمسك بسنتي (باب فی النھی عن الغش، ج: 11، ص: 166، ط: مرکز شیخ ابی الحسن الندوی)
و فی مشکوۃ المصابیح : عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا لا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي ( کتاب البیوع ، باب الغصب والعاریہ ، ج : 1 ، ص : 255 ، ط : قدیمی کتب خانۃ )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز نور غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89907کی تصدیق کریں
0     85
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات