میں پیشہ وارانہ طور پر شادیوں کی فوٹو گرافی کرتا ہوں ، میں جوڑوں کی تصویریں کھینچتا ہوں ، اور جو بھی مرد یا عورت تقریب میں آتے ہیں سب کی تصویریں لیتا ہوں، پھر اس کے بعد ان کو اسکا البم دیتا ہوں اور باقی کچھ تصویریں ڈیجیٹل شکل میں سنوار کر مؤکل (یعنی مذکورہ گاہک) کو بھیجتا ہوں اور وہ مجھے اس کے بدلے پیسے دیتے ہیں، کیا یہ کام اور اس کی کمائی جائز ہے میں آپ کی رہنمائی کا منتظر ہوں، جزاک اللہ ۔
واضح رہے کہ فی نفسہ ڈیجیٹل تصویر کشی کی اگرچہ شرعاً گنجائش ہو،تا ہم سائل کے بیان کردہ کام کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ متعدد حرام وناجائز أمور (مثلا غیر محرم عورتوں کی تصویر سازی، غیر محرم عورتوں میں جانا اور مخلوط ماحول کی منظر کشی)پر مشتمل ہے اس لیے اس ذریعہ روزگار کو ترک کرنا اور جائز ذرائع تلاش کرنا لازم ہے۔
کما في رد المحتار:وأمافعل التصويرفهوغيرجائز مطلقًا لأنه مضاهاةلخلق الله تعالى.(ج:1،ص:65،مط: سعيد كراچی).
وفي مرقات المفاتيح شرح مشكوةالمصابيح تحت شرح هذاالحديث"ثمن الكلب خبيث،ومهرالبغي خبيث،وكسب الحجام خبيث":(خبيث)أى حرام إجماعا لأنهاتأخذعوضاًالمحرم ووسيلةالحرام حرام..الخ(ج:6ص:16،باب الكسب وطلب الحلال مكتبةحقانية)