نکاح کے تنسیخ کے طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی درکار ہے، میں نے پہلے طلاق کے بارے میں فتویٰ پوچھا تھا، جس کا نمبر 88342 ہے، اور جواب میں مجھے بتایا گیا کہ اگر میں نکاح (فسخ نکاح) کے طریقہ کار کے بارے میں معلومات چاہتی ہوں تو ای میل کے ذریعہ رابطہ کروں، لہذا گزارش ہے کہ مہربانی فرما کر مجھے یہ بتا دیں کہ نکاح تنسیخ کس طرح کیا جاتا ہے، اس کا مکمل شرعی طریقہ کار کیا ہے، اور اس کے لیےکن دستاویزات یا معلومات کی ضرورت ہوتی ہے،آپ کی رہنمائی کیلئے شکر گزار رہوں گی۔
سائلہ نے اپنے ابتدائی سوال میں یہ بتایا تھا کہ وہ ایک سال شوہر کے ساتھ رہی لیکن اختلافِ باہمی اور شوہر کے نامناسب رویے کی وجہ سے نباہ اور ساتھ رہنا ممکن نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ والدین کے ہاں آگئی، سوال میں یہ تفصیل نہیں بتائی تھی کہ شوہر کی طرف سے کیا زیادتی ہوا کرتی تھی، آیا وہ اس حد تک مارپیٹ کرتے تھےکہ جس کی وجہ سے سائلہ کے جسم پر نشان آجاتے یا کھانےپینے ، رہن سہن اور پہننے کے کپڑے تک نہیں دیتا تھا، اگر یہی صورتحال تھی پھر تو سائلہ کیلئے شرعاً تنسیخِ نکاح کا راستہ اختیار کرنے کا حق ہےجس کیلئے جج کا مسلمان ہونا اور مذکورہ امور کو شرعی شہادت کے ساتھ ثابت کرنا ضروری ہوگا، جبکہ اگر صورتحال ایسی نہ تھی جو ذکر کی گئی تو سائلہ کو اولاً چاہیئے کہ شوہر کے ساتھ اپنا گھر آباد رکھنے کی کوشش کرے، اور اگر مزاج کی فہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے یہ مشکل ہو تو بڑوں اور خیر خواہ لوگوں کو بیچ میں لاکر طلاق بالمال یا خلع کا راستہ اختیار کیا جائے۔
اس کے بعد واضح ہو کہ تنسیخ نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ عورت شروع میں ذکر کردہ امور کی بنیاد پراپنا مقدمہ مسلمان حاکم (حج) کے سامنے پیش کرے اور جس کے سامنے یہ مقدمہ پیش ہو، وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنا گھر بسا کر بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے باوجود اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو تو بغیر کسی انتظار و مہلت کے قاضی اس کا قائم مقام بن کر اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے، چنانچہ ایسا کرنے سے اس عورت پر ایک طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور وہ عورت عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح بھی کر سکے گی، اور عدت کی ابتدا قاضی کے فیصلہ کے دن سے ہو گی، یاد رہے کہ عدالت میں جو مقدمہ دائر کیا جائے، وہ شوہر کے تعنت کی بنیاد پر ”تنسیخِ نکاح “ کا مقدمہ دائر کیا جائے، خلع کا مقدمہ دائر نہ کیا جائے اور نہ ہی خلع کا طریقہ کار اختیار کیا جائے ، ورنہ فسخِ نکاح معتبر نہ ہوگا۔
جبکہ عورت کے پاس اپنا دعوی ثابت کرنے کیلئے اگر گواہ بھی نہ ہوں تو ایسی صورت میں چونکہ شوہر سے قسم لی جاتی ہے، لیکن اگر وہ عدالت میں حاضر ہی نہ ہوتو شوہر کے پاس بار بار ”تنسیخ نکاح کا نوٹس پہنچنے کے باوجود اس کا عدالت میں حاضر نہ ہونا حکماً نکول عن الیمین “ شمارہو گا، اور اس کے خلاف قاضی کا فیصلہ شرعاً بھی معتبر ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: تجب علی الرجل نفقۃ امرأتہ المسلمۃ والذمیۃ والفقیرۃ والغنیۃ دخل بھا أو لم یدخل کبیرۃ کانت المرأۃ أو صغیرۃ یجامع مثلھا کذا فی فتاوی قاضی خان سواء کانت حرۃ أو مکاتبۃ کذا فی الجواھرۃ النیرۃ إلخ(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، ج: 2، ص: 544، ط: ماجدیۃ )۔
وفی حیلۃ الناجزۃ للحلیلۃ العاجزۃ: واما المتعنت الممتنع عن الانفاق ففی مجموع الامیر ما نصہ: ان منعھا نفقۃ الحال فلھا القیام فان لم یثبت عسرہ انفق أو طلق،والا طلق علیہ،قال محشیہ ای طلق علیہ الحاکم من غیر تلوم اھ(73)۔