گناہ و ناجائز

غیر مسلم ملک میں سودی معاملہ کرنا مباح ہے؟

فتوی نمبر :
89362
| تاریخ :
2025-11-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

غیر مسلم ملک میں سودی معاملہ کرنا مباح ہے؟

اسلام علیکم میرا تعلق ہندوستان بریلوی شریف سے ہے ۔ویسے تو میں اتحاد اُمت میں بھروسہ رکھ کر مسلکوں کے جھگڑوں میں نہیں پڑتا۔ میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے مسلک کےعلماء کہتے ہیں کہ ہم F D ( فکس ڈپازٹ) کر سکتے ہیں اور اُس سے جو منافع کی رقم حاصل ہوتی ہے، وہ مال مباح میں آتا ہے ۔ ہندوستان دارالحرب ہے اور یہاں کافروں کی حکومت ہے ،اِس طرح سے ہم نے اُس کافر بینک کو معاشی طور پر کمزور کیا تو کیا یہ مسئلہ درست ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

راجح اور مفتیٰ بہ قول کے مطابق کسی بھی ملک ( خواہ وہ دار الحرب کیوں نہ ہو ) میں سودی لین دین اور سود وصول کرنا نصوصِ قطعیہ کی رو سے ناجائز اور حرام ہے اور اگر کسی نے جان بوجھ کر یا لاعلمی میں بھی سودی معاملہ کرکے سودی رقم حاصل کی ہے تو اسے بلانیتِ ِثواب ، مستحقِ ِ زکوٰۃ کو دینا لازم ہے ، لہذا انڈیا سمیت کسی بھی ملک کے رہنے والے مسلمان شخص کے لئے سودی معاملہ کرکے سودی رقم حاصل کرنا اور پھر اسے ادائیگیِ ِقرض میں خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں ، اس سے اجتناب لازم ہے ۔(از تبویب )

مأخَذُ الفَتوی

کمافي الدر المختار: ولا بين حربي ومسلم) مستأمن ولو بعقد فاسد أو قمار (ثمة) لأن ماله ثمة مباح فيحل برضاه مطلقا بلا غدر خلافا للثاني والثلاثة. (و) حكم (من أسلم في دار الحرب ولم يهاجر كحربي) فللمسلم الربا معه خلافا لهما لأن ماله غير معصوم فلو هاجر إلينا ثم عاد إليهم فلا ربا جوهرة. قلت: ومنه يعلم حكم من أسلما ثمة ولم يهاجرا الخ(مطلب فی استقراض الدراھم،ج:5۔ص:186،ط:سعید)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله ولا بين حربي ومسلم مستأمن) احترز بالحربي عن المسلم الأصلي والذمي، وكذا عن المسلم الحربي إذا هاجر إلينا ثم عاد إليهم، فإنه ليس للمسلم أن يرابي معه اتفاقا الخ (مطلب فی استقراض الدراھم،ج:5۔ص:186،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہ کریم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89362کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات