"السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ"کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ احناف کے نزدیک داڑھی کی مقدار کا ایک مُشت ہونا لازمی ہے ،اسی طرح اگر ہم دوسرے مذاہب کے علمائے کرام یا ائمہ حرمین کو دیکھیں جو حنبلی مذہب سے ہیں ان کی داڑھی ایک مٹھی سے کم ہوتی ہے اور ان کے یہاں شاید داڑھی کی مقدار کی کوئی حد نہیں ( واللہ اعلم )اب سوال عرض یہ ہے کہ ایک حنفی مذہب سے تعلق رکھنے والا شخص کسی دوسرے مذہب کے ائمہ کرام جن کے یہاں داڑھی کی کوئی مقدار نہیں اور ان کے یہاں داڑھی کا ایک مشت سے کم ہونے میں کوئی قباحت نہیں تو کیا اس معاملے میں ایک حنفی شخص دوسرے مذہب کی تقلید کرسکتا ہے ؟اس مسئلے پر نظر ثانی فرمائیں کرم نوازش ہوگی۔
واضح ہو کہ داڑھی تمام انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مشترکہ سنت اور اسلام کے نمایاں شعائر میں سے ہے۔ نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیثِ مبارکہ میں داڑھی بڑھانے اور مشرکین و مجوس کی مخالفت اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اسی طرح صحابۂ کرام، تابعین، ائمۂ مجتہدین اور امت کے اکابر کا متوارث عمل یہی رہا ہے کہ داڑھی کم از کم ایک مشت رکھی جائے، اور ایک مشت سے کم کرنا ناجائز قرار دیا گیاہے، ائمہ اربعہ کا بھی یہی موقف ہے، لہٰذا کسی حنفی شخص کا دوسرے مذہب کے امام یا عالم کے ذاتی عمل کی بنیاد پر اس سنت کو ترک کرنا شرعاً جائز نہیں، بلکہ گناہِ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔
کما فی الشامیۃ : (قوله: وأما الأخذ منها إلخ) بهذا وفق في الفتح بين ما مر وبين ما في الصحيحين عن ابن عمر عنه صلى الله عليه وسلم «أحفوا الشوارب واعفوا اللحية» قال: لأنه صح عن ابن عمر راوي هذا الحديث أنه كان يأخذ الفاضل عن القبضة، فإن لم يحمل على النسخ كما هو أصلنا في عمل الراوي على خلاف مرويه مع أنه روي عن غير الراوي وعن النبي صلى الله عليه وسلم يحمل الإعفاء على إعفائها عن أن يأخذ غالبها أو كلها كما هو فعل مجوس الأعاجم من حلق لحاهم، ويؤيده ما في مسلم عن أبي هريرة عنه صلى الله عليه وسلم «جزوا الشوارب واعفوا اللحى خالفوا المجوس» فهذه الجملة واقعة موقع التعليل، وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد اهـ ملخصا اھ۔(مطلب فی الاخذ من اللحیۃ، ج: 2، ص: 418، م: سعید)
وفی الموسوعۃ الفقہیۃ : أما الأخذ من اللحية وهي دون القبضة لغير تشوه ففي حاشية ابن عابدين: لم يبحه أحد، حلق اللحية : ذهب جمهور الفقهاء: الحنفية والمالكية والحنابلة، وهو قول عند الشافعية، إلى أنه يحرم حلق اللحية لأنه مناقض للأمر النبوي بإعفائها وتوفيرها، وتقدم قول ابن عابدين في الأخذ منها وهي دون القبضة: لم يبحه أحد، فالحلق أشد من ذلك اھ (الاحکام المتعلقۃ باللحیۃ، ج: 35، ص: 225، الکویت)