چرس اور سگریٹ پینے کا کیا حکم ہے ؟وضاحت فرما دیجئے
واضح ہو کہ چرس چونکہ نشہ آور چیز ہے ،اس لیے اس کا استعمال جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ سگرٹ اگر نشہ آوراجزائے ترکیبی پر مشتمل ہو تو اس کا پینا بھی جائز نہ ہوگا، البتہ اگر صرف تمباکو وغیرہ سے بنی ہو تو اگرچہ نشہ آور نہ ہونے کی وجہ سے اس پر چرس کے استعمال والا حکم نہیں لگے گا، تاہم سگریٹ کے مضر صحت اور متعدد بیماریوں کا سبب ہونے میں اطباء کا اتفاق ہے اس کے علاوہ فضول خرچی اور مالی نقصان کا بھی باعث بنتی ہے ،اس لیے بیشتر معاصر فقہاء کرام اسے مکروہ کے درجے میں شمار کرتے ہیں، چنانچہ سگریٹ کی عادت ڈالنے سے بھی گریز چاہیے۔
كما في رد المحتار: (قوله فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف. وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه اھ (ج:6،ص: 460) وفيه أيضاً: (قوله وأكل نحو ثوم) أي كبصل ونحوه مما له رائحة كريهة للحديث الصحيح في النهي عن قربان آكل الثوم والبصل المسجد اھ (ج:1،ص: 661)
وفيه أيضاً :ويحرم أكل البنج والحشيشة ) هي ورق القنب (والافيون) لانه مفسد للعقل ويصد عن ذكر الله وعن الصلاة (لكن دون حرمة الخمر فإن أكل شيئا من ذلک لا حد عليه وإن سكر) منه (بل يعذر بما دون الحد) كذا في الجوهرة۔
و في تنقيح الفتاوى الحامدية: وبالجملة إن ثبت في هذا الدخان إضرار صرف خال عن المنافع فيجوز الإفتاء بتحريمه وإن لم يثبت انتفاعه فالأصل حله مع أن في الإفتاء بحله دفع الحرج عن المسلمين فإن أكثرهم مبتلون بتناوله مع أن تحليله أيسر من تحريمه وما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما اھ (ج:7،ص: 426)