السلام علیکم! میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا کسی کے لیے خود کشی کرنے کی گنجائش ہوتی ہے ؟ میں اپنے حالات میں پھنسا ہوا ہوں، اور مجھے خوف ہے کہ آنے والے دن بہت ہی مشقت والے ہوں گے، اور یہ بات نہیں ہے کہ مجھے اللہ کی رحمت پہ شک ہے ، بس یہ ہے کہ میں بہت خوف زدہ ہوں ، اگر میں خود کشی کر لوں کیا میں یقینی طور پر جہنم میں جاؤں گا ، یا پھر میری بھی بخشش ہو جائے گی ؟ شکریہ!
خود کشی حرام اور اس کو حلال سمجھنا بھی بڑے گناہ کی بات اور بسا اوقات کفر کا باعث بن جاتی ہے، اور ایسے شخص کا ٹھکانہ جہنم ہے، اس لیے سائل پر لازم ہے کہ بجائے ایسے باتوں کے سوچنے وغیرہ کے اہل اللہ کی صحبت اختیار کرے اور اپنے سابقہ تمام گناہوں پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل تو بہ واستغفار کر کے اپنے آپ کو اتباع سنت کا خوگر بنائے اور رجوع الی اللہ کرے ۔
كما في صحيح مسلم: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قتل نفسه بحديدة فحديدته في يده يتوجأ بها في بطنه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن شرب سما فقتل نفسه فهو يتحساه في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا، ومن تردى من جبل فقتل نفسه فهو يتردى في نار جهنم خالدا مخلدا فيها أبدا» اھ (1/ 103)
وفی مرقاة المفاتيح: تحت قوله (مخلدا فيها أبدا) تأكيد بعد تأكيد، أو محمول على المستحل اھ (6/ 2262)
وفی شرح النووي على مسلم: أنه محمول على من فعل ذلك مستحلا مع علمه بالتحريم فهذا كافر وهذه عقوبته اھ (2/ 125)