گناہ و ناجائز

سسرال والو ں کا بہو سے، ڈرانے اور الزام تراشی کرنے کی وجہ سے قطع تعلقی کرنا

فتوی نمبر :
89110
| تاریخ :
2025-11-24
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

سسرال والو ں کا بہو سے، ڈرانے اور الزام تراشی کرنے کی وجہ سے قطع تعلقی کرنا

محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں احتراماً اپنی بہو کی طرف سے بار بار ہونے والے نقصانات، دھمکیوں اور جھوٹے الزامات کے بارے میں ایک باضابطہ شرعی حکم چاہتی ہوں، جس نے مجھے، میرے گھر کی عورتوں اور بچوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ پس منظر: تقریباً تین سال پہلے، میری بہو، اُجالا (ندیم عارف کی بیوی)، ایک چھوٹی سی بات پر ناراض ہو گئیں۔ اس نے اپنے خاندان کے 10-15 مردوں کو بلایا، جو مجھے، خواتین اور بچوں کو دھمکیاں اور دھمکاتے ہوئے بغیر اجازت ہمارے گھر میں داخل ہوئے۔ ہمارے ایک رشتہ دار نے تشدد کو روکنے کے لیے مداخلت کی۔ کچھ دنوں بعد، خاندان کے بزرگوں نے صلح کرائی اور ہم نے اسے معاف کر دیا۔ تین مہینے پہلے، ایک معمولی زبانی اختلاف پر، اس نے بار بار 10-15 آدمیوں کو ہمارے گھر بلایا، پھر ہمیں دھمکیاں دیں۔ اس نے ایک جھوٹی پولیس شکایت بھی درج کرائی، جسے سی سی ٹی وی فوٹیج نے اس کے دعوے کو غلط ثابت کرنے کے بعد خارج کر دیا تھا۔ انتباہ کے باوجود، اس نے اور اس کے رشتہ داروں نے جھوٹ پھیلایا اور کمیونٹی میں ہمیں بدنام کیا۔ ایک اور صلح ہوئی، لیکن اب میں اور میری بیٹیاں اس سے غیر محفوظ اور خوف زدہ محسوس کرتی ہیں، ہم بار بار کے جھوٹ اور دھمکیوں کی وجہ سے اس پر بھروسہ نہیں کرتے، ہمیں مزید جھوٹے الزامات اور نقصان کا خدشہ ہے۔ سوالات: اس کے اعمال کے بارے میں اسلامی حکم: مسلح گروہوں کو گھر والوں کو دھمکانے کے لیے بلانا زبردستی گھروں میں گھسنا اور خوف پھیلانا جھوٹی پولیس شکایات درج کرنا اور جھوٹے الزامات لگانا جھوٹ پھیلانا اور خاندان کے افراد کو بدنام کرنا کیا اسلامی قانون میں ان اعمال کو بہتان، نمیمۃ، فساد فی الارض، یا دیگر کبیرہ گناہوں میں شمار کیا جاتا ہے؟ میرا دل اب اسے قبول نہیں کر سکتا۔ کیا اسلامی طور پر میرے اور میرے اہل خانہ کے لیے دوری برقرار رکھنا یا عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے تعلقات منقطع کرنا جائز ہے؟ بار بار مجرموں کے لیے مناسب رہنمائی: اگر کوئی شخص بار بار نقصان دہ کام کرتا ہے اور سچے دل سے توبہ نہیں کرتا، تو کیا اسے معاف کرنا ضروری ہے، یا کیا کوئی اپنی حفاظت کر سکتا ہے اور فاصلہ برقرار رکھ سکتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ کسی مسلمان پر بلاوجہ جھوٹا الزام لگانا ناجائز اور کبیرہ گناہوں میں سے ہے، اسی طرح کسی شخص کا دانستہ طور پر دوسرے لوگوں پر جھوٹے مقدمات بنانا اور انہیں دھمکیاں دینا بھی شرعاً جائز نہیں ، لہذا سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائلہ کی بہوکا گھر کی چھوٹی موٹی باتوں اور اختلافات کی وجہ سے مسلح افراد کو بلاکر بلا اجازت گھر میں داخل کرانا اور گھر والوں کو دھمکانا یا پولیس کے پاس جھوٹی شکایت درج کرواکر تنگ کرنا انتہائی درجہ نامناسب اور غیر شرعی طرز عمل ہے، لہذااس پر لازم ہے کہ اپنے اس قبیح عمل پر بصدق دل توبہ واستغفار کرتے ہوئے سائلہ اور گھر کے دیگر افراد سے دست بستہ معافی مانگے اور آئندہ کے لئے اس طرز عمل سے مکمل اجتناب کرے ۔
تاہم اگر تمام کوششوں کے باوجود سائلہ کی بہو اپنے اعمال شنیعہ سے باز نہیں آتی اور سائلہ اور ان کی بیٹیوں کو مذکورہ بہوکے ساتھ ملنے جلنے کی وجہ سے تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں ان کے ساتھ تعلقات محدود کرنے اور بقدر ضرورت آمد وررفت رکھنے کی گنجائش ہے، البتہ مکمل قطع تعلق کرنا پھر بھی جائز نہ ہوگا جس سے بہر صورت اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ تعالی: (وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا (58) يَا} [الأحزاب: 58، 59)
فی سنن أبی داؤد: عن عبد الله بن يسار، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، قال: حدثنا أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، أنهم كانوا يسيرون مع النبي صلى الله عليه وسلم، فنام رجل منهم، فانطلق بعضهم إلى حبل معه فأخذه، ففزع، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌لا ‌يحل ‌لمسلم ‌أن ‌يروع ‌مسلما الخ۔
وفی شرح النووی علی مسلم: وتقدم عليه قاعدة مذهب أهل السنة والفقهاء وهي أن من حمل السلاح على المسلمين بغير حق ولا تأويل ولم يستحله فهو عاص ولا يكفر بذلك فإن استحله كفر فأما تأويل الحديث فقيل هو محمول على المستحل بغير تأويل فيكفر ويخرج من الملة وقيل معناه ليس على سيرتنا الكاملة الخ۔ ‌‌(باب قول النبي صلى الله عليه وسلم من حمل علينا السلاح فليس منا، ج: 2، ص: 108، ط: دار إحیاء التراث العربی)۔
وفی الدر: (وصلة الرحم واجبة ولو) كانت (بسلام وتحية وهدية) ومعاونة ومجالسة ومكالمة وتلطف وإحسان ويزورهم غبا ليزيد حبا بل يزور أقرباءه كل جمعة أو شهر ولا يرد حاجتهم لأنه من القطيعة في الحديث «إن الله يصل من وصل رحمه ويقطع من قطعها» وفي الحديث «صلة الرحم تزيد في العمر» الخ۔ ( فصل فی البیع، کتاب الحظر والإباحۃ، ج: 6، ص:411، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89110کی تصدیق کریں
0     138
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات