میں ایک دفتر میں کام کرتی ہوں جہاں صرف لڑکیاں ہوتی ہیں۔ میری شفٹ 8 گھنٹے کی ہوتی ہے اور ہمیں جو کام کرنا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ کے جو اسٹریمرز ہوتے ہیں جو ٹوئچ پر لائیو اسٹریم کر رہے ہوتے ہیں، ہم ان کی اسٹریم پر جاتے ہیں، ان سے گیم سے متعلق بات کرتے ہیں اور پھر انہیں ڈسکارڈ پر لا کر اپنا آرٹ ورک جیسے لوگو، بینر وغیرہ فروخت کرتے ہیں۔ اگر انہیں پسند آتا ہے تو وہ خرید لیتے ہیں، اور اگر نہ آئے تو نہیں خریدتے۔ لیکن ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہم جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم بھی امریکہ سے ہیں، تو کیا یہ کام حرام ہوا؟ کیا میری کمائی حرام ہے یا حلال؟ اور میں خود سے امریکہ کا نہیں کہتی، لیکن جب کوئی پوچھتا ہے تو بتاتی ہوں کہ میں امریکہ سے ہوں کیونکہ ہم پیسے امریکی ڈالرز میں لیتے ہیں۔ ہم ان سے پیسے ڈسکس کرتے ہیں، اگر انہیں مناسب لگتے ہیں تو وہ ادا کر دیتے ہیں۔ براہِ کرم مجھے سچ بتائیں کیونکہ اس مہینے میں نے بہت اچھا کام کیا ہے اور میری تنخواہ بھی اچھی بنی ہے۔ مجھے یہ جاننا ضروری ہے کہ میری کمائی حلال ہے یا نہیں۔ براہ کرم میری مدد کریں اور جلدی بتائیں، شکریہ۔
صورت مسئولہ میں اگر بنایا جانے والا آرٹ ورک (لوگو، بینر وغیرہ) شرعاً جائز ہو، یعنی اس میں جاندار کی تصویر، فحاشی، عریانی، قمار، شراب، یا کسی حرام چیز کی تشہیر نہ ہو، تو ایسا آرٹ ورک بنانا اور بیچنا فی نفسہٖ جائز ہے، اور اس پر اجرت لینا بھی درست ہے۔
البتہ کاروباری مقصداورخریدارکااعتمادحاصل کرنےکےلیےا سے یہ کہنا کہ"ہم امریکہ سے ہیں" حالانکہ حقیقت میں ایسا نہ ہو،صریح جھوٹ ہےجوشرعاً حرام اور گناہ ہے، لہذاسائلہ اگراس ملازمت کوجاری رکھناچاہتی ہے تواسےسابقہ معاملات پر صدق دل سے توبہ و استغفار کرنے اور آئندہ جھوٹ ترک کر کے صرف جائز آرٹ ورک کو سچائی کے ساتھ فروخت کرنے کااہتمام چاہئیے۔
کما فی صحیح البخاری: قال النبی ﷺ: ((الخدیعۃ فی النار و من عمل عملاً لیس علیہ أمرنا فھو رد)) (باب النجش ومن قال لا یجوز ذلک البیع، ج:2، ص: 1036، ط: بشریٰ)-
وفی سنن أبی داؤد: عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يبيع طعاما، فسأله "كيف تبيع؟ " فأخبره، فأوحي إليه: أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه، فإذا هو مبلول، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ليس منا من غش".(باب فی النھی عن الغش، ج:5، ص:323، ناشر: دار الرسالۃ العالمیۃ)-
وفی الشامیۃ: قولہ ( لأن الغش حرام ) ( إلی قولہ ) قال بعض مشایخنا یفسق و ترد شھادتہ إلخ (مطلب في جملة ما يسقط به الخيار،ج: 5 ص: 47، ناشر: سعید)-
وفی الدر المختار: أفاد أن ركنها الإيجاب والقبول. وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة اھ
وفی رد المحتار تحت: (قوله كون الأجرة والمنفعة معلومتين) أما الأول فكقوله بكذا دراهم أو دنانير وينصرف إلى غالب نقد البلد، فلو الغلبة مختلفة فسدت الإجارة ما لم يبين نقدا منها فلو كانت كيليا أو وزنيا أو عدديا متقاربا فالشرط بيان القدر والصفة وكذا مكان الإيفاء لو له حمل ومؤنة عنده، وإلا فلا يحتاج إليه كبيان الأجل، ولو كانت ثيابا أو عروضا فالشرط بيان الأجل والقدر والصفة لو غير مشار إليها، ولو كانت حيوانا فلا يجوز إلا أن يكون معينا بحر ملخصا. وأما الثاني فيأتي في المتن قريبا (قوله ساعة فساعة) ؛ لأن المنفعة عرض لا تبقى زمانين، فإذا كان حدوثه كذلك فيملك بدله كذلك قصدا للتعادل، اھ(شروط الإجارۃ، ج:6، ص:5، ناشر: سعید)-